خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 499 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 499

خطابات شوری جلد اوّل ۴۹۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء اس وقت کثرتِ رائے کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں لیکن مقبرہ بہشتی والوں کو حق ہے کہ وہ جماعت کو اپنے دلائل سے قائل کر کے اگلے سال اس امر کو پھر مجلس مشاورت میں پیش کرا دیں۔چودھری بشیر احمد صاحب نے جن الفاظ کے اُڑانے کی ترمیمیں پیش کی ہیں اور جن کی کثرت آراء نے تائید کی ہے میں اکثریت کی رائے کو تسلیم کرتا ہوں اور یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ اگر مستثنیات کو رکھا جائے تو ان الفاظ کو اُڑا دیا جائے۔کاشت کاری کے جانوروں کو مستثنے کرنے کی جو ترمیم پیش کی گئی ہے اگر اسے تسلیم کیا جائے تو اور مستثنیات کے لئے بھی دروازہ کھولنا پڑے گا اور میں سمجھتا ہوں کہ بیلوں پر ہی اکتفا نہیں کرنا پڑے گا بلکہ اور لوگ جن چیزوں سے کام کرتے ہیں اُن پر بھی مستثنیات آ سکتی ہیں مثلاً مشین وغیرہ۔اِس لئے اِس میں میں قلتِ رائے کی تائید کرتا ہوں۔اگر اس عرصہ میں زمیندار دوست سمجھا دیں کہ زمینداری کرنے والے جانوروں اور مشینوں وغیرہ کے ذریعہ کام کرنے میں فرق ہے تو اگلے سال اس سوال کو پھر پیش کیا جا سکتا ہے۔رہائشی مکان کو مستثنیٰ کرنے کے متعلق کثرتِ رائے کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں۔۵۱ آراء نے اس ترمیم کی تائید کی اور ۲۰۴ را ئیں خلاف شمار کی گئی ہیں۔گویا کاشت کاری کے جانوروں کے متعلق ترمیم کے سوا جو مستثنیات کا دروازہ کھولنے والی ہے، باقی سب امور میں کثرت آراء کے حق میں فیصلہ کیا گیا ہے۔“ امور عامہ کے متعلق فیصلہ ۲۶ مارچ کو دوسرا اجلاس ساڑھے تین بجے تلاوت قرآن کریم دو اور دُعا کے بعد شروع ہوا۔حضور نے فرمایا۔دوسرا سوال جس کے متعلق میں احباب سے مشورہ چاہتا ہوں وہ ایجنڈا میں سے نمبر سوال ہے جو یہ ہے :- مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء میں بعض دوستوں کی تحریک پر اس بات پر مشورہ لیا گیا تھا کہ ہماری جماعت کے لڑکوں کا دوسرے فرقوں کی لڑکیوں سے چونکہ رشتہ جائز قرار دیا گیا ہے مگر ہم اپنی لڑکیاں اُن کو نہیں دے سکتے اس لئے یہ مشکلات پیدا ہو گئی ہیں کہ اُن کی