خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 28
خطابات شوری جلد اول ۲۸ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء صاحب جو ایک مجدد بھی نہیں بلکہ معمولی ولی تھے ان کے ماننے والے ہو گئے۔ دراصل ہمارے طریق تبلیغ میں غلطیاں ہیں ان کو دور کرنا چاہئے ۔ ہمارا ہر آدمی مبلغ ہونا چاہئے ۔ اگر اب تین ہزار بھی آدمی سال میں داخل ہوتا ہے اور پہلے پانچ سو داخل ہوتے تھے تو اُس وقت پانچ سو لوگ تھے جو پانچ سو اور لاتے تھے اور اب پچاس ہزار تین ہزار کو لاتے ہیں۔ گویا پہلے ایک احمدی ایک پر غالب آتا تھا اب سترہ احمدی ایک پر غالب آتے ہیں یہ خطر ناک کمزوری ہے۔ اگر وہی ترقی کی رفتار قائم رہتی جو پہلے تھی تو پچاس ہزار، پچاس ہزار اور ساتھ ملاتے ۔ اب ہم تعداد کو نہیں دیکھیں گے بلکہ نسبت کو دیکھیں گے۔ اب نقص یہ ہے کہ لوگوں نے سمجھ لیا ہے کہ مبلغ اس کام کو کریں گے مگر اتنے مبلغ کہاں سے آئیں گے۔ پھر جب چند کو تنخواہ نہیں دے سکتے تو باقیوں کو کہاں سے دیں گے۔ اصل میں ہمارا ہر فرد مبلغ ہے اور قرآن نے ہر مومن پر یہ فرض رکھا ہے۔ دیکھو کوئی احساس پیدا کرنا کتنا مشکل ہے۔ متواتر تین سال سے کہہ رہا ہوں کہ ہر احمدی مبلغ ہے مگر کتنے ہیں جنہوں نے یہ فرض پہچانا ہے۔ جتنے پہلے داخل ہوتے تھے اُتنے ہی داخل ہوتے ہیں اگر کچھ بڑھے تو پچاس ساٹھ فی سو ہو نگے ۔ گویا اتنوں پر یہ اثر ہوا ہے اور باقیوں پر نہیں تو کتنا مشکل ہے احساس پیدا کرنا۔ ضروری ہے کہ آپ لوگ جو قائمقام بن کر آئے ہیں یہ باتیں وہاں جا کر جاری کریں اور دن رات لگے رہیں اور وہاں جس طرح چندہ لیا جاتا ہے اسی طرح ہر احمدی سے سیکرٹری تبلیغ تبلیغ کرائے ۔ جودہ مبلغوں کی وجہ سے چند نقص پیدا ہو گئے ہیں۔ پہلا سلسلہ کے لٹریچر سے لوگ ناواقف ہو گئے ہیں۔ پہلے خود کتابیں پڑھتے تھے اور دلائل یاد رکھتے تھے مگر اب یہ کام انہوں نے مبلغ کا سمجھ لیا ہے۔ اگر ہر فرد تبلیغ کرے گا تو وہ مجبور ہوگا کہ دلائل یا د رکھے۔ اور اس کے لئے کتابیں پڑھے گا۔ دوسرا یہ کہ تبلیغ کا مادہ کم ہو گیا ہے۔ پہلے لوگ خوب واقف تھے۔ تیسرا آپس کے لڑائی جھگڑے پیدا ہو گئے ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں فارغ ہیں کام نہیں ۔ اگر ہر احمدی دشمنوں کے جمگھٹے میں گھرا رہے تو ایسا نہ ہو۔ چوتھا بو دلی پیدا ہو گئی ہے۔ پہلے غیروں میں جاتے جو مارتے اور اس طرح ان میں جرات پیدا ہوتی ۔ اب مولویوں کو جتھا بنا کر لے جاتے ہیں اور کوئی نہیں مارتا۔