خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 489
خطابات شوری جلد اوّل ۴۸۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء لوگوں نے کہا نہیں یہ اپنے آپ ہی ہو گئی ہیں۔تب اُس نے کہا ہم ایسی بات پیش کرتے ہیں جس کے متعلق یہ نہ کہا جا سکے کہ اپنے آپ ہی ہوگئی ہے۔اس کے لئے وہ ایسے انسان کو جس کی طاقت دُنیا کے مقابلہ میں مچھر اور چیونٹی سے بھی کمزور ہوتی ہے، اُٹھاتا ہے اور یہ کہلاتا ہے کہ کہو میں خدا کی طرف سے آیا ہوں اور خدا کے نور کو دنیا میں پھیلانا چاہتا ہوں، دُنیا میرے خلاف کچھ نہ کر سکے گی اور میں کامیاب ہو جاؤں گا۔اگر مچھر بھی بول سکتا ، اسے بھی زبان مل جاتی اور وہ بھنبھنا تا ہوا اِس مجلس میں آکر کہتا یہاں سے بھاگ جاؤ ورنہ میں تمہیں کھا جاؤں گا تو خیال کر لوکس طرح لوگ اس کی بات پر حقارت اور نفرت سے مسکرا دیتے۔مچھر کو جانے دو ایک چھوٹے بچہ کو لے لو۔وہ ماں باپ جو چھوٹے بچہ کو تہذیب نہیں سکھاتے۔جب بچہ اُنھیں کہتا ہے کہ ماروں گا تو اُس پر غصہ نہیں ہوتے بلکہ ہنستے ہیں۔تربیت کے لحاظ سے اگر ڈانٹیں تو اور بات ہے مگر یہ نہیں کہ بچے کے مارنے سے ڈرتے ہوں۔خدا تعالیٰ کی قدرت نمائی جن کو خدا تعالیٰ دُنیا کی اصلاح کے لئے چنتا ہے وہ جب دُنیا سے کہتے ہیں کہ ہم غالب ہو جائیں گے، کوئی ہمارا مقابلہ نہیں کر سکے گا اور دُنیا اُن سے کہتی ہے تمہیں مسل کر رکھ دیا جائے گا۔تو اُس وقت دُنیا خود کہتی ہے کوئی انسانی تدبیر اسے ہم پر غلبہ نہیں دلا سکتی۔انسانی تدبیر نے ہمیں غلبہ دیا ہوا ہے۔تب خدا تعالیٰ کی قدرت ظاہر ہوتی ہے جو اُس کو طاقتور اور اُس کے مخالفوں کو کمزور بنا دیتی ہے۔اُس وقت وہ خود یہ اقرار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ہمیں یہ اپنی تدبیر اور اپنی کوشش سے کبھی مغلوب نہیں کر سکتا تھا۔تب خدا تعالیٰ اسے غالب کرتا ہے تو دُنیا کو ماننا پڑتا ہے کہ یہ اپنے آپ غالب نہیں ہوا بلکہ ایک اور طاقت تھی جس نے اسے غلبہ عطا کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آواز یہی وہ آواز تھی جو ہمارے اندر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اُٹھی جس کا اُس وقت کوئی بھی ساتھی نہ تھا۔اس نے خدا تعالیٰ کی طرف سے اطلاع پا کر اعلان کیا کہ دُنیا میں ایک نذیر آیا۔پر دُنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔لیکن خدا اسے قبول کرے گا۔اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔پھر اُسی وقت کی یہ آواز تھی کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔۳ے