خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 27

خطابات شوری جلد اول ۲۷ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء دور ہو سکتی ہیں مگر یہ لوگ افسروں سے اپنی ملاقاتوں کو ذاتی فوائد کا ذریعہ نہ بنائیں اور اگر کوئی ایسا کرے تو اسے ہٹا دیا جاوے اور دوسرے کو مقرر کر دیا جاوے۔ اسی طرح شادی بیاہ کے لئے لوگ کہتے ہیں کہ کوئی رشتہ نہیں ملتا۔ اگر وہاں بھی ایسا انتظام ہو جیسا یہاں ہے تو جو لوگ اپنی قوم کے خیال سے رشتہ نہیں کرتے یا بڑے چھوٹے کو دیکھتے ہیں انہیں سمجھا سمجھا کر آپس میں رشتہ کرا دیں تو یہاں اتنا کام نہ بڑھے ۔ اسی طرح لڑائی جھگڑے ہیں، ان کا خیال رکھنا ہے۔ لین دین ہے اگر ہر جگہ قاضی ہو تو بہت سی لڑائیاں جھگڑے پیش نہ آئیں گے۔ ابتداء میں وہی مشکلات ہوں گی جو یہاں ہیں مگر جب لوگ عادی ہو جاویں گے تو امن ہو جاویگا ۔ اسی طرح تعلیم و تربیت کا سیکرٹری ہر جگہ ہو جو دیکھے کہ کتنوں کو تعلیم و تربیت کی ضرورت ہے۔ جس کو سب سے زیادہ پڑھا ہوا دیکھے اُس سے کہے کہ ان دس کو سکھانا تمہارا کام ہے۔ جب وہ سیکھ جاویں تو ان کے ساتھ اوروں کو لگا دیا جاوے تا کہ موٹے موٹے مسائل سکھا دے۔ تو امور عامہ، قضاء تعلیم و تربیت کے ماتحت ہر جگہ یہ صیغے ہونے چاہئیں۔ ان کی غرض یہی ہے کہ ایک ایسا ذمہ دار ہو جو ان تمام مسائل سے واقف کرے جو ضروری ہیں اور وہ تمام مسائل سکھائے اور پھر ایک ایک کو واقف کرے اور اس کی رپورٹ دیں۔ صیغہ تالیف و اشاعت ایک اور صیغہ تألیف و اشاعت ہے۔ ہماری جماعت کی موجودہ تعداد بہت کم ہے۔ ہم پانچ لاکھ کہتے ہیں مگر سچی بات یہ ہے کہ یہ ذہنی اور خیالی بات ہے۔ میں ایک لاکھ سمجھتا تھا لیکن آ نہ فنڈ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ پچاس ہزار ہے۔ مجھے کسی نے کہا کہ مفتی صاحب نے جماعت سات لاکھ لکھی ہے۔ میں نے کہا کہ ان کو جرات ہوگی کہ دو لاکھ بڑھا ئیں میں تو پانچ لاکھ ہی سمجھتا ہوں اور یہ بھی اس لئے کہ حضرت صاحب نے لکھا ہے اور ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ آپ کے قلم پر یہ جاری کر دیا ہو اور ایسے لوگ ہوں جو ظاہر نہ ہوں ۔ اگر کہو کہ حضرت صاحب کے بعد ا پر یہ جاری کر دیا ہو اور ا زیادتی ہو گئی ہے تو یہ بھی ہے کہ کم بھی ہو گئے ہیں اس لئے جب تک مردم شماری کر کے پتہ نہ لگالوں میں تو یہی کہوں گا چاہے پچاس سال گذر جاویں کہ عملی طور پر پچاس ہزار جماعت ہے۔ اس رفتار سے ہم تین چار سو سال میں بھی اُتنی جماعت نہیں بن سکتے جتنے باوانانک