خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 484 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 484

خطابات شوری جلد اول لد له مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء کے متعلق خیال تھا کہ وہ احمدیوں کے خلاف فیصلہ کرے گا ۔ آخر اس نے فیصلہ کے نوٹ لکھ لئے اور جس دن وہ عدالت میں فیصلہ سنانے والا تھا احمدیوں کو سخت گھبراہٹ پیدا ہو گئی تھی کہ آج ان کے ہاتھ سے مسجد نکل جائے گی جس کے متعلق مقدمہ تھا ۔ اُس وقت بعض کو یہ بھی خیال آرہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو لکھا تھا کہ خدا تعالیٰ فضل کرے گا اور کامیابی ہو گی مگر اب تو بات انتہاء کو پہنچ چکی ہے پھر کامیابی کس طرح ہو گی؟ آخر جج نے فیصلہ کے کاغذات لئے اور کپڑے پہن کر کچہری میں جانے لگا تا کہ فیصلہ سنائے ۔ اُس وقت اس نے نوکر سے کہا بُوٹ پہنا دے۔ وہ بُوٹ پہنا رہا تھا کہ اس نے محسوس کیا حج صاحب کو جھٹکا لگا ہے او پر نگاہ کر کے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ حج صاحب کی جان نکل چکی ہے۔ اس طرح اُس کا فیصلہ لکھا لکھا یا ہی رہ گیا اور ایک دوسرے حج نے فیصلہ کیا جو احمد یوں کے حق میں تھا۔ تو ایسے فیصلے ہوا کرتے ہیں لیکن دُنیا اپنی طاقت کو دیکھتی ہے اور یہ نہیں دیکھتی کہ اس طاقت کو ایک لمحہ میں سلب کر لینے والی ہستی بھی موجود ہے۔ سلسلہ احمد یہ خدا نے قائم کیا ہے ہمیں یہ مجھنا چاہئے کہ جو کام ہمارے سپرد ہوا ہے ہے یہ یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے۔ اگر اس سلسلہ کو خدا تعالیٰ نے قائم نہیں کیا ، اگر ہم خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت یہاں جمع نہیں ہوئے ، اگر ہم خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے سب کچھ نہیں کر رہے تو پھر ہمارا دوسرے مسلمانوں سے علیحدگی اختیار کرنا قومی غداری ہے اور ہم دشمن ہیں اپنی قوم کے، اپنے ملک کے اور اپنے بھائیوں کے۔ اس صورت میں ہم جس قدر جلد تباہ ہو جائیں اُتنا ہی اچھا ہے۔ صرف اسی صورت میں ہماری جد و جہد اور ہمارا یہ اجتماع مفید نتیجہ پیدا کر سکتا ہے کہ ہم ان اعلیٰ اغراض کے لئے جو ہمارے لئے بالا ہستی کی طرف سے مقرر کی گئیں اور اُس کام کے لئے جو خدا تعالیٰ نے ہمارے سپرد کیا ہم جمع ہوئے ہوں ۔ اسی بناء پر ہم دوسروں سے علیحدہ کھڑے ہو سکتے ہیں۔ ورنہ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنانا قطعاً جائز نہیں ہو سکتا ۔ مخالفین کا ہمارے متعلق خیال لوگ ہماری کمزوری کو دیکھ کر اورم ہماری کمزوری کو دیکھ کر اور مسلمانوں کی وسعت پر نظر کر کے اور زمانہ کی نزاکت کو مد نظر رکھ کر ہمیں کہتے ہیں کہ تم قومی غدار ہو، تم مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کرتے ہو، تم علیحدہ جماعت بناتے