خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 468
خطابات شوری جلد اول ۴۶۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۱ء سے کہیں کہ نئی سوسائٹیز بناؤ یا یہ کہ جو لوگ سود کی مصیبت میں پھنسے ہیں ان سے کہیں کہ ایسی سوسائٹیز میں شامل ہو جاؤ۔ جب ہم یہ کہیں گے کہ ایسی سوسائٹیز بناؤ تو ان کا انتظام ہمارے سپرد ہو جاتا ہے لیکن جب کہیں کہ جہاں ایسی سوسائٹیز ہوں وہاں جو سودی قرض کے نیچے دبے ہوں وہ ان میں شامل ہو جائیں تو پھر انتظام ہمارے ذمہ نہیں آتا۔ گویا جب ہم اس قسم کی سوسائٹیز گھلواتے حلواتے ہیں تو جو لوگ سود میں مبتلاء ہیں ان سے دو گناہوں کا ارتکاب کراتے ہیں پہلے وہ صرف سود دیتے تھے اور یہ مجبوری کا گناہ تھا لیکن خود سوسائٹی قائم کرنا اور ممبر بننا جبکہ ایسی سوسائٹی میں سو د لیا بھی جاتا ہے اور دیا بھی جاتا ہے۔ دوہرے گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ پس ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ جن کے ذمہ سودی قرضہ ہے وہ بنکوں میں شامل ہو جائیں جہاں سود کم دینا پڑتا ہے اور اس طرح سودی قرض ادا کرنے کی کوشش کریں مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ خود بنکوں کا کاروبار شروع کر دیں ۔ سودی قرض والے لوگوں کو بڑی مصیبت سے سے : بچنے کے لئے چھوٹی مصیبت اختیار کرنے کی اجازت ہو سکتی ہے۔ یعنی ایسے بنکوں میں شامل ہو سکتے ہیں جہاں اور لوگ بھی ہوں بلکہ کثرت انہی کی ہو۔ کسی ایسے کاروبار میں احمدیوں کی کثرت نہ ہوتا کہ قواعد بنانے کی ذمہ داری ان پر عائد نہ ہو۔ پس سب کمیٹی نے جو تجویز پیش کی ہے اگر اس کا یہ مطلب ہے کہ مقروض احمدی ایسے بنکوں میں شامل ہوں جہاں قواعد وغیرہ کی ذمہ داری ان پر نہ ہو تو وہ شامل ہو سکتے ہیں لیکن اگر یہ مطلب ہے کہ خود بنک چلا ئیں تو اس کی میں اجازت نہیں دے سکتا ۔“ تیسرا دن وہ مجلس مشاورت کے تیسرے اور آخری دن یعنی ۵۔ اپریل ۱۹۳۱ء کو تلاوت قرآن مجید سے کارروائی کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد حضور نے دعا کروائی اور پھر احباب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا :- دو پچھلے سال جو کمیشن مقرر کیا گیا تھا بعض کمیشن کی تجاویز کے متعلق رپورٹ اور کیا ہوا اس کے کیا کیا تو داری دریوں سے ارکا نبود