خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 459

خطابات شوری جلد اوّل ۴۵۹ رت ۱۹۳۱ء کو ہدایت دے سکوں کہ فلاں امر کے متعلق اس طرح لکھو اس صورت میں اخبار والوں کو بھی کام کے متعلق زیادہ ہدایات حاصل ہو سکتی ہیں۔تیسرے نظارتوں کو مجھ سے اپنے کام کے متعلق ملنے کی ضرورت ہوتی ہے مگر اس وقت میں علمی کام یا مطالعہ کر رہا ہوں تو اسے زیادہ دیر کے لئے چھوڑ نہیں سکتا لیکن اب اس طرح کرنا پڑتا ہے کہ میں اطلاع ہونے پر کام چھوڑ کر بیٹھ جاتا ہوں اور ملنے والے کو بلانے اور اس کے آنے پر جو وقت صرف ہوتا ہے اس میں بے کار بیٹھا رہنا پڑتا ہے۔اگر کوئی ناظر صاحب آئیں اور مجھے اس وقت فرصت نہ ہو تو ان کا وقت ضائع ہوتا ہے لیکن ٹیلیفون ہو تو اس طرح وقت ضائع نہ ہوگا۔چوتھے ایک اہم کام ہوتا ہے مگر اس وقت جو شخص ملاقات کر رہا ہوتا ہے وہ کسی اور کا پاس ہونا گوارا نہیں کرتا۔اسی طرح اس اہم کام کے متعلق مشکل پیش آتی ہے لیکن اس میں ملاقات کرنے والے کو کوئی اعتراض نہ ہوگا کہ اس کی ملاقات کے دوران میں ہی میں کسی کو ٹیلیفون پر کوئی ہدایت دے دوں۔غرض بہت سے نقائص پیدا ہو جاتے ہیں جن کی وجہ سے ٹیلیفون کی ضرورت ہے۔اور اس سال تو منٹ منٹ پر مشورہ کی ضرورت پیش آتی رہی ہے۔اس لئے میں نے کہہ دیا تھا کہ ٹیلیفون لگا دیا جائے۔میں غیر معمولی اخراجات کی مد سے خرچ کی منظوری دے دوں گا۔لیکن اس کے متعلق مشورہ کرنے ، سکیم سوچنے اور کمیٹی سے پوچھنے میں دسمبر آ گیا اس پر میں نے کہا اس معاملہ کو مجلس مشاورت میں پیش کر کے مشورہ کر لینا چاہئیے کیونکہ مجلس مشاورت کے انعقاد میں تھوڑا وقت رہ گیا ہے۔اب میں جماعت کی کثرتِ رائے کی تائید میں فیصلہ کرتا ہوں۔ایک دوست دریافت کرتے ہیں دوسرے شہر سے اگر ٹیلیفون کیا جائے تو ممانعت تو نہ ہو گی۔انہیں معلوم ہو قطعاً ممانعت نہ ہو گی مگر یہ ٹیلیفون تو مقامی ہوگا۔بیرونی شہروں سے کوئی کر ہی کیونکر سکے گا۔جس دوست نے اس کے اخراجات دینے کا وعدہ کیا ہے چونکہ حالات ایک سے نہیں رہتے۔اس لئے میں نے ان کا نام نہیں لیا۔اگر خدا تعالیٰ ان کو توفیق دے اور وہ یہ روپیہ