خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 458
خطابات شوری جلد اوّل ۴۵۸ ت ۱۹۳۱ء فیصلہ ۴۳ آراء حضور نے اس کے متعلق فیصلہ صادر کرتے ہوئے فرمایا : - آراء لینے کے ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اس کی اہمیت کا زیادہ خیال پیدا ہو سکتا ہے۔ایک دوست کی طرف سے جو افریقہ سے چھٹی لے کر آئے ہوئے ہیں۔یہ خواہش ظاہر کی گئی کہ ٹیلیفون کا سارا خرچ میں دے دوں گا۔ایک دوسرے دوست نے لکھا ہے اگر اس کے لئے الفضل میں اعلان کیا جائے تو سارا خرچ وصول ہوسکتا ہے۔میں کثرتِ رائے کی تائید کرتے ہوئے اس تجویز کی منظوری کا اعلان کرتا ہوں۔ایک دوست نے اس تجویز کو میری طرف منسوب کیا ہے مگر تجویز کے الفاظ میں اس قسم کا کوئی ذکر نہ تھا۔اور میں نے اس کی تردید کر دی تھی لیکن دراصل میری طرف سے ہی یہ تجویز تھی۔مگر آراء لینے سے قبل اس کا بتانا موزوں نہ تھا تا کہ غور کرنے سے قبل میری محبت کی وجہ سے اس کے حق میں رائے نہ دی جائے۔اس کی اصل ضرورت مجھے ہی پیدا ہوئی۔جب کوئی دوست ملنے آتے ہیں تو اُنہوں نے دیکھا ہوگا کہ پہلے گھنٹی بجائی جاتی ہے۔اس پر دفتر کا کوئی آدمی میرے پاس آتا ہے اور اسے جو کچھ کہنا ہو کہا جاتا ہے۔اسی طرح پرائیویٹ سیکرٹری کو روزانہ کم از کم ۳۰،۲۵ دفعہ او پر آنا جانا پڑتا ہے لیکن اگر ٹیلیفون ہو تو جب کوئی ملاقات کے لئے آئے پرائیویٹ سیکرٹری ٹیلیفون کر کے پوچھ سکتا ہے کہ ملاقات کیلئے وقت مل سکتا ہے یا نہیں۔اسی طرح مجھے جو کچھ پوچھنا ہو ٹیلیفون کے ذریعہ پوچھ لیا کروں گا اگر کوئی اہم کام ہوا تو مل لیا کروں گا ورنہ نہیں۔اس طرح میرا بھی وقت بچ جائے گا اور دفتر والوں کا بھی۔دوسرے یہ بات دماغی کام کرنے والے ہی سمجھ سکتے ہیں۔دوسرے نہیں اور عموماً دماغی کام کرنے والے کم ہوتے ہیں میں نے دیکھا ہے۔کئی اہم مضامین الفضل اور سن رائز میں چھپنے سے اس لئے رہ جاتے ہیں کہ جب میرے ذہن میں آتے ہیں اس وقت اخبار والے پاس نہیں ہوتے کہ انہیں نوٹ کر ا دوں اور جب وہ پوچھنے آتے ہیں اس وقت وہ باتیں ذہن میں نہیں ہوتیں۔جب میں کوئی کتاب یا اخبار پڑھتا ہوں اس وقت کئی باتیں ایسی سامنے آتی ہیں جن پر لکھنا ضروری ہوتا ہے۔اگر ٹیلیفون ہو تو اسی وقت الفضل والوں