خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 457 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 457

خطابات شوری جلد اول ۴۵۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۱ء 66 قانونی نقص نہیں ہوگا تو کوئی وجہ نہیں کہ مقدمہ کر کے حصہ جائیداد نہ لے سکیں اور جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رسالہ الوصیت میں تحریر فرمایا ہے۔ اگر وصیتی مال کے متعلق کوئی جھگڑا پیش آوے تو اس جھگڑے کی پیروی میں اخراجات ہوں وہ تمام وصیتی مالوں میں سے دیئے جائیں گے ۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسی صورتیں آپ نے تسلیم کی ہیں جن میں وصیت تو جائز ہو گی مگر ورثاء اُس میں روکیں ڈالیں گے ۔ اُس وقت مقدمہ کر لیا جائے اور اس کا خرچ صیغہ مقبرہ بہشتی ادا کرے۔ اس صورت میں مرنے والے کی لاش دفن کرنے میں کوئی روک نہ ڈالنی چاہئے کیونکہ اِس میں اُس کا کوئی قصور نہیں اور انجمن کا فرض ہے کہ اُس کی جائیداد کا حصہ وصول کرنے کے لئے پورا زور لگائے ۔ ٹیلیفون لگوانے سے متعلق تجویز نظارت اعلیٰ کی طرف سے ایک تجویز بعض دفاتر میں ٹیلیفون لگوانے سے متعلق تھی بعض ممبران کے اظہار رائے کے بعد حضور نے فرمایا :- اس کے متعلق رائے لینے سے پہلے بتا دیتا ہوں کہ جس امر کی لالچ سید محمد اشرف صاحب نے دی ہے اسے دِل سے نکال دینا چاہئیے اور پھر رائے دینی چاہئیے ۔ جب ٹیلیفون کے متعلق تجویز پیش ہوئی تو میں نے کہہ دیا تھا کہ جہاں ٹیلیفون لگایا جائے گا وہاں سے ناظر تو میںنے کہ دیا تھاکہ جہاں جائے گا وہاں سے کے بغیر کسی اور نے ٹیلیفون کیا تو جرمانہ کیا جائے کیونکہ ایسی صورت میں تو میں کچھ بھی کام نہ کر سکوں گا ۔ پس یہ لالچ نہیں ہونا چاہئیے کہ جو چاہے گا ٹیلیفون کر دے گا کیونکہ اگر ٹیلیفون لگ گیا تو ناظر ہی ٹیلیفون کر سکیں گے اور کسی کو اجازت نہ ہوگی ۔ پس جو دوست اس بات کی تائید میں ہیں کہ ٹیلیفون لگایا جائے وہ بغیر اس امید کے کہ اس سے میرے ساتھ باتیں کر سکیں گے کھڑے ہو جائیں ۔“ ۱۹۸ آراء دو جائیں ۔“ 66 66 جن دوستوں کی یہ رائے ہو کہ یہ خرچ فی الحال برداشت نہ کرنا چاہئیے وہ کھڑے ہو