خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 455
خطابات شوری جلد اوّل ۴۵۵ دوست اس کی تائید میں ہیں وہ کھڑے ہو جائیں“۔۷۲ آرا ء سب کمیٹی کی تجویز کی تائید میں شمار کی گئیں۔ت ۱۹۳۱ء جو دوست اس تجویز کی تائید میں نہیں اور یہ کہتے ہیں کہ جس طرح پہلے کیا جاتا ہے یعنی ورثاء کی ضمانت پر دفن کرنے کی اجازت دے دی جاتی ہے اُسی طرح کیا جائے وہ کھڑے ہو جائیں“۔۱۵۶ را ئیں اس کی تائید میں شمار ہوئیں ان کے علاوہ عورتوں کی انجمنوں کی جو رائیں ایجنڈا کی تجویز کے متعلق آئی ہیں وہ سُناتا ہوں“۔اس کے بعد حضور نے وہ آراء سُنا ئیں اور فرمایا کہ : - میں سمجھتا ہوں اس بارے میں مردوں نے جورا ئیں دی ہیں ان سے عورتوں کی را ئیں کم اہمیت نہیں رکھتیں۔اور انہوں نے حق قائم کر لیا ہے کہ اہم معاملات میں وہ بھی لیہ رائیں دیں۔فیصلہ میرے نزدیک ان مشکلات کا حل جو وصایا کے متعلق پیش آتی ہیں ایگزیکٹو (EXECUTIVE) طریق سے ہی عمدگی کے ساتھ ہوسکتا ہے بجائے اس کے کہ اس بارے میں کوئی قانون بنایا جائے۔رسالہ الوصیت میں جو قانون موجود ہے اُسے استعمال کیا جائے۔جائیداد میں کئی قسم کی ہو سکتی ہیں۔ایک قسم جائید داد کی ایسی ہے کہ اس کا نہ ہبہ ہو سکتا ہے اور نہ وصیت، جیسے جاگیریں ہیں مگر بعض جائیدادیں ایسی ہوتی ہیں جن کا ہبہ ہو سکتا ہے مگر وصیت نہیں ہو سکتی۔اور بعض جائیدادیں ایسی ہوتی ہیں جن کی وصیت بھی کی جاسکتی ہے۔ان صورتوں میں مقبرہ بہشتی کی کمیٹی کا فرض ہونا چاہئے کہ دیکھے وصیت کرنے والے کی جائیداد کس قسم کی ہے۔جو شخص وصیت کرنا چاہے اُس سے پہلا سوال ہی یہ ہونا چاہئے کہ تمہاری جائیدادکس قسم کی ہے؟ اگر تمہارے ورثاء تمہاری وفات کے بعد حصہ جائیداد دینے سے انکار کر دیں تو پھر بھی وصول کیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟ اگر وصیت کی صورت میں انکار کر سکتے ہوں تو کیا ہبہ کی صورت ایسی ہے کہ حصہ جائیداد وصول کیا جا سکے؟ اگر کسی صورت میں بھی جائیداد کا حصہ نہ