خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 441 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 441

خطابات شوری جلد اوّل ۴۴۱ ت ۱۹۳۱ء ایک ایسے انسان کو قبول کیا جسے خدا نے دُنیا کی ہدایت کے لئے مبعوث کیا اور وہ اپنے آنے کا مقصد یہ بیان کرتا ہے کہ دُنیا کو ایک ہاتھ پر جمع کرے مگر ہم دنیا کو جمع کرنا تو الگ رہا اگر اپنے رشتہ داروں کو بھی جمع نہیں کر سکتے تو پھر اور کیا صورت ہمارے لئے سمجھانے کی ہوسکتی ہے۔پس تبلیغ پر خاص زور دینا چاہئے۔اس دفعہ کی مجلس مشاورت کے ایجنڈا میں اس کے لئے کوئی تجویز نہیں مگر بجٹ میں اسے مدنظر رکھا گیا ہے۔پھر ہمارے تمام کے تمام کام تبلیغی ہیں۔ہمارےسکول، ہمارالنگر خانہ، ہمارے دفاتر سب تبلیغی کام ہیں، ان کو ترقی دینی چاہئے۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے تعلیم الاسلام تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان ہائی سکول میں لڑ کے کم ہیں۔میں نے بعض اوقات سکول کے نقائص بیان کئے کیونکہ میں سمجھتا تھا اور اب بھی سمجھتا ہوں کہ وہ نقائص تھے مگر اس کی وجہ سے جماعت کے احباب کو یہ اثر نہ لینا چاہئے تھا کہ اپنے بچے نہ بھیجیں۔ہمارے مدرسہ میں ایک چیز ہے جس کے متعلق میں نے دیکھا ہے اس مدرسہ میں تعلیم پانے والا طالب علم خواہ کسی حالت کو پہنچ جائے اُس میں دین کی محبت ضرور ہوتی ہے۔حتی کہ غیر احمدی طلباء جو اس میں پڑھتے ہیں اُن میں بھی دین کے متعلق احساس پیدا ہو جاتا ہے اور دین سے محبت پائی جاتی ہے۔میں سمجھتا ہوں یہ تبلیغ کا نہایت اہم شعبہ تھا مگر جماعت نے اس سے بہت کم فائدہ اُٹھایا ہے اور اب اور بھی کم طلباء ہوتے جاتے ہیں۔میں اُمید کرتا ہوں کئی ہزار روپیہ جو سکول اور بورڈنگ پر خرچ کیا گیا ہے اس سے فائدہ اُٹھایا جائے گا۔یہ سکول صرف قادیان کے لوگوں کے لئے نہیں بلکہ ساری جماعت کے لئے ہے اور یہ ہمارا مرکزی سکول ہے مگر اس سے فائدہ کیا حاصل کیا گیا ہے یہ دیکھنا جماعت کا کام ہے۔اسی طرح مدرسہ احمدیہ ہے۔اس وقت تک یہ وقت رہی ہے کہ مبلغین کی مدرسہ احمدیہ جماعت کے لئے طالب علم نہیں مل سکتے۔گزشتہ سال تین تھے اب کے تین بھی نہیں صرف دو ہی ملے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ مدرسہ احمدیہ میں اتنے طلباء داخل نہیں ہوتے جتنے ہونے چاہئیں۔پس میں نہ صرف یہ کہوں گا کہ احباب ہائی سکول میں اپنے بچے بھیجیں بلکہ مدرسہ احمدیہ میں بھی بھیجیں۔اس سے یہ بھی فائدہ ہوسکتا ہے کہ مختلف علاقوں