خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 416
خطابات شوری جلد اوّل ۴۱۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء صحیح تعریف کی مستحق کونسی جماعتیں ہیں بیت المال کو ایک غلطی لگی ہے اور وہ یہ کہ ایسا بجٹ وصول نہ ہو گا۔میں کہتا ہوں نہ وصول ہومگر جماعت کو احساس تو ہوگا کہ اتنا بجٹ پورا کرنا ہے جو جماعت ایسا بجٹ پورا کرے گی وہ تعریف کے قابل ہوگی اور جو نہ کرے گی اُسے توجہ دلائی جائے گی۔اب دھوکا کے طور پر کام ہو رہا ہے۔جو جماعت بجٹ تو پورا کر دیتی ہے لیکن جماعت کے سب افراد سے چندہ نہیں لیتی وہ قابل تعریف قرار دی جاتی ہے اور دعاؤں کی مستحق سمجھی جاتی ہے لیکن جو جماعت کام کرتی ہے اور سب سے چندہ وصول کرتی ہے مگر بجٹ پورا نہیں کر سکتی اُس کی دل شکنی کی جاتی ہے۔یہ طریق درست نہیں ہے۔اسی طرح یہ بھی درست نہیں کہ جو شخص ایک آنہ فی روپیہ سے کم چندہ دے اُس سے نہ لیا جائے۔میرا حکم یہ ہے کہ جو اس شرح سے کم دے وہ لکھائے کہ میرے لئے یہ مجبوریاں ہیں اس لئے میں دو پیسے یا ایک پیسہ فی روپیہ کے حساب سے چندہ دیتا ہوں۔پس یہ نہیں کہ ایک آنہ فی روپیہ سے کم کوئی نہیں دے سکتا بلکہ یہ ہے کہ بلا اجازت نہیں دے سکتا۔اجازت لینے کی اس لئے ضرورت ہے کہ یہاں اس کے متعلق ریکارڈ رہے اور اُسے مقررہ چندہ دینے کا خیال رہے۔پس یہ روک درمیان میں نہیں ہے کہ جو مقررہ شرح سے چندہ نہ دے وہ چندہ دینے میں شامل نہیں ہو سکے گا۔بجٹ ہر جماعت کا ایک آنہ فی روپیہ کے لحاظ سے ہی بنے اور جو اس سے کم دینے کی استطاعت رکھتے ہوں وہ کم دیں مگر اُنہیں خیال رہے کہ اسی کمی کو پورا کرنا ہے۔پس ہر جماعت کا بجٹ ایک آنہ فی روپیہ کے لحاظ سے ہو اور سارے کے سارے افراد کے لحاظ سے ہو۔خواہ وہ دہند ہوں یا نادہند ہوں۔اس طرح آمد کا بجٹ بہت بڑھ سکتا ہے۔خواہ پہلے سال سارا بجٹ وصول نہ ہومگر جو جماعتیں کم بجٹ بناتی ہیں اُن کی اصلاح ہو جائے گی۔بیت المال صحیح تعریف کا مستحق کس طرح ہو سکتا ہے ایک اور بھی نقص ہے اور وہ یہ کہ موجودہ طریق سے بیت المال کے کام پر پردہ پڑا رہتا ہے۔بیت المال کا کام یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ آمد دکھائے۔اگر اصل چندہ تین چار لاکھ دکھایا جاتا اور پھر دو تین لاکھ وصول ہوتا تو رپورٹ