خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 415 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 415

خطابات شوری جلد اول ۴۱۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء ان جماعتوں میں جائیں اور تفصیل لکھیں کہ فلاں جماعت میں اتنے افراد فلاں فلاں ہیں اور ان کی یہ آمدنی ہے۔ پھر اس آمدنی پر ایک آنہ فی روپیہ کے حساب سے چندہ تجویز کیا جائے ۔ سوائے اس کے کہ کوئی ممبر یہ کہے کہ میں آ نہ فی روپیہ چندہ نہیں دے سکتا ۔ اس کے متعلق لکھا جائے کہ فلاں آدمی کہتا ہے کہ میں ایک آنہ فی روپیہ ماہوار چندہ نہیں دے سکتا اس کے سوا تشخیص آمد کی فہرست میں اور کوئی نوٹ نہ ہو۔ یا اگر کوئی ایک آنہ فی روپیہ سے زیادہ دے یا وصیت کی رقم ادا کرتا ہو تو اُس کے متعلق نوٹ دیا جائے ۔ ایک نقص اور اس کا ازالہ لیکن اس صورت میں ایک نقص ہو سکتا ہے ۔ ہم کسی کے متعلق بے اعتباری تو نہیں کرتے لیکن محصل کی سستی کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ تشخیص درست نہ ہو۔ اس نقص کو دور کرنے کے لئے انسپکٹر کا ہونا بھی ضروری ہے۔ وہ محصّل کی مرتب کردہ رپورٹ لے جا کر تحقیقات کرے کہ محصل نے ٹھیک کام کیا ہے یا نہیں؟ آمد کی تشخیص غلط تو نہیں کی؟ ممکن ہے کہ اس نے کسی کی آمد کم یا زیادہ لکھ دی ہو اس لئے انسپکٹر کا ہونا ضروری ہے جو کہ محل کے کام کی پڑتال کرے تاکہ محصل اپنے کام میں چُست رہیں۔ میں کل کی گفتگو سے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اگر اس طریق کو عمل میں لایا جائے تو چندہ بڑھ سکتا ہے۔ میں ہمیشہ بیت المال سے کہتا رہا ہوں کہ جب جماعت بڑھ رہی ہے تو چندہ کیوں نہیں بڑھتا ؟ کل معلوم ہوا کہ تشخیص نہیں ہوتی اور محصل صرف وصول شدہ چندہ لے کر بھیج دیتے ہیں ۔ آئندہ محصل کا کام چندہ بھیجنا نہیں ہو گا یہ مقامی سیکرٹری کا کام ہے ۔ وہ جتنا زیادہ کا چندہ وصول کرے اُس کی تعریف کا وہی مستحق ہوگا۔ محصل کا کام آمد کی تشخیص ہو گا۔ ہاں جہاں کے متعلق یہ معلوم ہو کہ مقامی افراد میں اختلاف کی وجہ سے چندہ وصول نہیں ہے ہوتا وہاں جا کر محصل چندہ وصول کرے ۔ مقررہ شرح سے کم چندہ دینے والا جو شخص مقررہ شرح چندہ سے کم دے اُس کے متعلق میرا یہ فیصلہ ہے کہ وہ لکھائے کہ میرے لئے یہ مجبوریاں ہیں اس لئے میں کم دیتا ہوں اور اس کے لئے اجازت لے ۔ پس یہ حکم نہیں لئے میں لئے کہ مقررہ شرح سے کم کوئی نہیں دے سکتا بلکہ یہ ہے کہ بلا اجازت کوئی کم نہیں دے سکتا ۔