خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 410

خطابات شوری جلد اوّل ۴۱۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء کیا جائے۔اس کا تدارک آئندہ کے لئے اس طرح کر دیا گیا ہے کہ جو کمیشن تحقیقات کے لئے مقرر ہوا کرے وہ یہ بھی مد نظر رکھے مجلس مشاورت میں پاس شدہ امور پر عمل ہوتا ہے یا نہیں اور اس بات کا پتہ کمیشن کی رپورٹوں سے لگتا رہے گا۔اس لئے اس کے لئے رکسی مزید انتظام کی ضرورت نہیں۔سیاسی خدمات کے متعلق رسالہ چوہدری عبدالسلام صاحب کا سوال نمبر 4 یہ ہے که مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء میں پاس ہوا تھا کہ ہماری دس سالہ سیاسی خدمات کا دوسری سیاسی جماعتوں کے کاموں سے مقابلہ کرتے ہوئے کوئی رسالہ شائع کیا جائے کیا کوئی ایسا رسالہ شائع کیا گیا؟ اس کا جو جواب دیا گیا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے۔اس تجویز کا مطلب یہ تھا کہ مسلمانوں کو ہم یہ بتائیں کہ ہمارے متعلق جو یہ کہا جاتا ہے کہ ہم گورنمنٹ کے خوشامدی ہیں یہ غلط ہے۔ہم مسلمانوں کے فوائد ہر حالت میں مدنظر رکھتے اور ان کے لئے پوری جدو جہد کرتے ہیں۔مسلمانوں کے فوائد کو نظر انداز کر کے ہم کبھی گورنمنٹ کا ساتھ نہیں دیتے۔میں امید کرتا ہوں کہ متعلقہ نظارت جلد اس قسم کا ٹریکٹ شائع کرنے کا انتظام کرے گی جس سے لوگوں کو معلوم ہو کہ ہم مسلمانوں کے فوائد بہر حال مقدم رکھتے ہیں اور ملک اور قوم کی بہترین خدمت کر رہے ہیں۔امدادی سکیم چوہدری عبدالسلام صاحب کے سوال نمبر ۸ کا جو جواب دیا گیا ہے وہ بھی درست نہیں ہے۔جواب میں جس سکیم کا ذکر کیا گیا ہے اور جس پر عمل شروع ہو چکا ہے وہ اور ہے لیکن جس سکیم کے متعلق سوال کیا گیا ہے وہ اور ہے اور اس پر کوئی توجہ نہیں کی گئی۔احمد یہ ہوسٹل کے متعلق سوال سید عبدالحی صاحب کا ایک سوال تھا گو اب ان کا سوال نہیں کہنا چاہئے کیونکہ وہ واپس لے چکے ہیں اور ان کا سوال کہہ کر ان کا ثواب ضائع کرنا ہو گا لیکن ان کے نام سے شائع ہوا ہے کہ کیا اس سال احمد یہ ہوٹل میں ایسے طلباء بھی داخل کئے گئے ہیں جن کو کسی وجہ سے ہوسٹل سے نکالا گیا تھا ؟ اگر ہیں تو کتنے اور ان کو کن شرائط کے ماتحت واپس آنے کی اجازت دی گئی ؟