خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 401
خطابات شوری جلد اوّل ۴۰۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء اس وقت اسے مذہب کا جُز و ثابت کرنے کے لئے دلائل میں نہیں پڑوں گا۔کوئی اسے غلط کہہ دے مگر ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن نے مقرر کیا ہے کہ خلیفہ ہو، اس لئے یہ مذہبی مسئلہ ہے۔میں اس میں کسی قسم کی تبدیلی کرنے کے لئے تیار نہیں۔میرا خیال ہے ایک دفعہ خانصاحب ذوالفقار علی صاحب غیر مبائعین کی طرف سے پیغام لائے تھے کہ آپس کا اختلاف دُور کر دینا چاہئے۔میں نے اُنہیں کہا تھا کہ اگر کسی دُنیوی بات پر اختلاف ہے تو میں اسے چھوڑنے کے لئے تیار ہوں، اگر کسی جائداد کے متعلق اختلاف ہے تو وہ میں دینے کے لئے تیار ہوں لیکن اگر خلافت مذہبی مسئلہ ہے تو کس طرح خیال کیا جا سکتا ہے کہ میں اسے قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاؤں گا۔دینی لحاظ سے تو ایک شعشہ کم کرنا بھی کُفر ہے۔پس میں یہی کر سکتا ہوں کہ وہ مجھے سمجھا ئیں ، میں انہیں سمجھا تا ہوں۔پھر جس کی بات حق ثابت ہو اُسے مان لیا جائے۔تو خلافت کا مسئلہ ایک مذہبی مسئلہ ہے اور مذہب کا جزو ہے اور حق یہ ہے کہ خلیفہ قائم مقام ہوتا ہے رسول کا اور رسول قائم مقام ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کا۔اللہ تعالیٰ نے بعض احکام دے کر اس کے بعد رسول کو اختیار دیا ہے کہ وہ ان میں دوسروں سے مشورہ لے کر فیصلہ کرے۔پھر لوگوں کو اس بات کا پابند قرار دیا ہے کہ جو فیصلہ رسول کرے اُسے بغیر چون و چرا کے تسلیم کریں۔اس پر اعتراض کر کے پیچھے رہنے کا کسی کو حق نہیں دیا۔اسی طرح خلیفہ کو حق دیا ہے کہ مشورہ لے اور پھر فیصلہ کرے۔مجلس شوری کا منصب کام دُنیاوی مجالس مشاورت میں تو یہ ہوتا ہے ان میں شامل ہونے والا ہر شخص کہہ سکتا ہے کہ چاہے میری بات رڈ کر دو مگر سن لو لیکن خلافت میں کسی کو یہ کہنے کا حق نہیں۔خلیفہ کا ہی حق ہے کہ جو بات مشورہ کے قابل سمجھے اُس کے متعلق مشورہ لے اور شوریٰ کو چاہئے کہ اس کے متعلق رائے دے۔شوری اس کے سوا اپنی ذات میں اور کوئی حق نہیں رکھتی کہ خلیفہ جس امر میں اس سے مشورہ لے، اس میں وہ مشورہ دے۔سوائے اس حق کے کہ وہ پہلے خلیفہ کی وفات پر نئے خلیفہ کا انتخاب کر سکتی ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تو تحدید کر دی تھی کہ ان کے بعد چھ آدمی جسے خلیفہ منتخب کریں وہ خلیفہ ہو۔ہم نے ان کی نقل کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وفات کے بعد مجلس شوری رائے عامہ اور شریعت کے احکام کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کرے کہ فلاں شخص خلیفہ ہو