خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 394

خطابات شوری جلد اوّل ۳۹۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء آدمی کا انتخاب کیا جائے۔فیصلہ یہ بہت ضروری تجویز ہے۔اس کے متعلق کچھ حد تک ضرور جائز شکایت ہے۔یہ دیکھا گیا ہے کہ جو قادیان میں آ بیٹھے اُسے زیادہ موقع مل جاتا ہے۔میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ وہی کمیشن جسے معائنہ دفاتر کے لئے مقرر کیا جایا کرے گا یہ کام کرے کہ سلسلہ کی ضرورت کے مطابق اشتہار دے کر درخواست کنندوں کی ایک لسٹ دفتر ناظر اعلیٰ میں بھیج دیا کرے۔ضرورت کے موقع پر ناظر اس فہرست میں سے کام کے لئے آدمی مقرر کیا کریں ، باہر سے نہیں۔بیسویں سفارش رجسٹر حاضری میں ٹھیک وقت درج نہیں کیا جاتا۔ٹھیک وقت کا اندراج ہونا چاہئے اور ہر پندرہ روز کے بعد عملہ ماتحت کی حاضری کا رجسٹر افسر صیغہ ملاحظہ کیا کرے اور ناظروں کا رجسٹر پریذیڈنٹ انجمن معتمدین ملاحظہ کرے۔فیصلہ یہ ضروری بات ہے میں بھی اس پر زور دیتا رہا ہوں مگر یہ جو کہا گیا ہے کہ ناظروں کی حاضری کا بھی رجسٹر ہو اس کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔میں نے گورنمنٹ آف انڈیا اور گورنمنٹ آف پنجاب سے پتہ منگایا ہے وہاں سیکرٹریوں کے لئے تو حاضری کا رجسٹر ہوتا ہے مگر ممبروں کا نہیں ہوتا۔میں تو یہاں ناظروں کے لئے بھی رکھوا رہا ہوں اور اگر کوئی پندرہ منٹ بھی لیٹ آئے تو جواب طلب کرتا ہوں۔بعض دفعہ صرف پتہ لینے کے لئے کہ ناظر وقت پر آتے ہیں یا نہیں، انہیں شروع وقت میں بلواتا ہوں لیکن میں یہ اس لئے کرتا ہوں کہ سوائے ناظر کے دفتری کام کی نگرانی کرنے والا کوئی نہیں ہوتا یعنی کلرکوں اور ناظروں کے درمیان کوئی اور واسطہ نہیں لیکن یہ پسندیدہ امر نہیں کہ ناظروں کے بارے میں اس قدرسختی کی جائے کیونکہ اس عہدہ کی ذمہ داری کے لحاظ سے تو کہا جا سکتا ہے که اگر ناظر دفتر میں نہ بھی آئے تو بھی حرج نہیں لیکن اس طرح فی الحال کام نہیں چل سکتا۔گو عملی طور پر یہی ہو رہا ہے کہ ناظر بھی حاضری درج کرتے ہیں اور اس کی پابندی میں ان سے کرا رہا ہوں لیکن میں اس بات کو اصولی طور پر طے کرنا نہیں چاہتا۔کمیشن نے مقررہ وقت پر نہ آنے کی وجہ نوٹ کرنے کی مثال دی ہے کہ ناظر اعلیٰ نے لکھا محلہ میں لڑکی گم ہو گئی اس کی تلاش میں دیر ہوگئی۔کمیشن نے اسے نامعقول عذر قرار