خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 389

خطابات شوری جلد اوّل ۳۸۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء اس کے مطابق کام کرے۔ہاں اگر وہ کام نہ سنبھال سکے تو پھر یہ کر سکتے ہیں کہ ایڈیٹر ان چیف کسی کو مقرر کر دیا جائے مگر میں نے جہاں تک غور کیا ہے ہمارے انگریزی خوانوں میں سے ایسے لوگ نہیں ملتے کہ جو قابلیت سے ایڈیٹری کا کام کر سکیں۔موجودہ ایڈیٹر کو تجر بہ اور زمانہ کے حالات کی واقفیت ہے جس سے کام کر رہا ہے۔ہوسکتا ہے کوئی دوسرا جسے انگریزی آتی ہو اس کام کی قابلیت نہ ہونے کی وجہ سے بجائے مفید ہونے کے مینر ثابت ہو۔میں اس کے لئے بھی کمیٹی بٹھاؤں گا تا کہ وہ کام کی سکیم بنا کر پیش کرے اور معلوم ہو سکے کہ موجودہ ایڈیٹر سے ہم کام لے سکتے ہیں یا کوئی اور رکھنا چاہئے۔چودھویں سفارش دفتر پرائیویٹ سیکرٹری اور پرائیویٹ سیکرٹری کسی ناظر کے ماتحت نہ ہو۔چونکہ اس کے ذریعہ سارے ناظروں کی نگرانی کی جاتی ہے اس لئے اگر وہ کسی ناظر کے ماتحت ہو تو اُسے دبنا پڑے گا۔یوں بھی آداب خلافت کے لحاظ سے یہ سمجھا گیا ہے کہ خلیفتہ امیج کے دفتر پر کسی اور ناظر کی نگرانی نہیں ہونی چاہئے۔یہ تجویز بھی شاید مفید ہو۔چونکہ دُنیا کا تجربہ یہی ہے کہ نگران صیغہ کسی صیغہ کے ماتحت نہ ہو اور کمیشن کی رپورٹ بھی یہی ہے اس لئے میں اسے منظور کرتا ہوں۔آئندہ پرائیویٹ سیکرٹری اور دفتر پرائیویٹ سیکرٹری نظارت اعلیٰ کے ماتحت نہ ہوگا بلکہ انجمن کے سامنے براہ راست جواب دہ ہوگا۔فیصلہ ضمنی تجویز کمیشن نے اسی سفارش کے ضمن میں یہ تجویز بھی کی ہے کہ پرائیویٹ سیکرٹری کے بجٹ میں معزز مہمانوں کی مہمان نوازی، بیتامی اور ضعفاء کی مالی مدد کا خرچ یا سلسلہ کی دوسری اغراض کا خرچ جن کا ظاہر کرنا مفید نہ ہو شامل کیا جائے۔فیصلہ یتامی اور ضعفاء کا خرچ پہلے ہی دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے ذریعہ ہوتا ہے۔باقی معزز مہمانوں کی مہمان نوازی کے لئے الگ خرچ ہو، یہ میں سمجھ نہیں سکا کہ اس سے ان کی کیا مراد ہے؟ اگر وہ مجھ سے مل لیتے تو میں پوچھ لیتا مگر اس کے لئے وقت نہ ملا۔شاید ان کی مراد غیر احمدی اور دوسرے مذاہب کے لوگوں سے ہے کیونکہ احمدی جو آتے رہتے ہیں ان کے لئے تو انتظام ہوتا ہی ہے اور میں بھی دعوت کا انتظام کرتا ہوں۔اگر احباب زیادہ تعداد میں جمع ہوں تو بھی میں دعوت دیتا ہوں۔سوائے سالانہ جلسہ کے کہ