خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 388

خطابات شوری جلد اوّل ۳۸۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء کوئی ہوتا اور یہ صیغہ کسی اصول کے ماتحت چلایا جاتا تو اشتہارات بھی بہت مل جاتے۔اخبارات بھی اچھی حالت میں ہو جاتے اور سلسلہ کا لٹریچر بھی بخوبی پک سکتا لیکن کوئی کارکن موزوں نہیں ملا اور اس کام کو صحیح طور پر نہیں چلا سکا اس لئے میں اسے موقوف کرتا ہوں۔بارھویں سفارش احمدیہ گزٹ اور سن رائز کوئی خاص غرض پوری نہیں کر رہے اور سلسلہ کے لئے مالی نقصان کا موجب ہیں ان کو بند کر دیا جائے۔احمد یہ گزٹ کا بند کرنا تو منظور کرتا ہوں لیکن سن رائز کے متعلق مجلس شوریٰ میں مشورہ طلب کروں گا کہ کیا کیا جائے ، اس کے بعد فیصلہ کروں گا۔تیرھویں سفارش ایڈیٹر الفضل کی تنخواہ کم ہے اس میں اضافہ کیا جائے اور کوئی نہایت قابل ایڈیٹر رکھا جائے۔فیصلہ میں اس سے متفق ہوں کہ موجودہ تنخواہ کم ہے اور جتنا یہ کام اہم ہے اس کے لحاظ سے ضروری ہے کہ زیادہ تنخواہ دی جائے اور آجکل زمانہ ایسا ہے کہ اخبار کو زیادہ قابلیت سے چلایا جائے مگر یہ دیکھنا چاہئے کہ اس میں ہماری بھی تو غلطی نہیں کہ ہم نے ایڈیٹر کے لئے کام کے اصول مقرر نہیں کئے۔میرے نزدیک ضروری نہیں کہ ایڈیٹر اگر کوئی انگریزی دان ہو تب ہی سیاسیات اور ضروری امور کو سمجھ سکے۔اگر ذہین ہو تو اردو میں بھی ایسے ذرائع ہیں کہ کافی قابلیت پیدا کر کے سیاسی مضامین پر رائے قائم کر سکتا ہے اور اگر چاہے تو اتنی انگریزی بھی پڑھ سکتا ہے کہ انگریزی مضامین سمجھ سکے۔میں جب سکول سے نکلا تو ایک فقرہ بھی انگریزی کا صحیح نہ لکھ سکتا تھا لیکن بعد کے مطالعہ سے اب ہر قسم کی علمی کتابوں کا بھی مطالعہ کر سکتا ہوں۔ڈاکٹری اور لاء کی کتابوں میں بعض اوقات دقت پیش آجاتی ہے مگر پھر بھی ٹوٹے پھوٹے ڈاکٹر اور وکیل جتنی پڑھ سکتا ہوں۔اسی طرح گومیں خود اعلیٰ درجہ کی صحیح انگریزی نہ لکھ سکوں لیکن دوسرے کی لکھی ہوئی صحیح کر سکتا ہوں اور بسا اوقات میں صحیح کرتا رہتا ہوں۔انگریزی ترجمہ قرآن کے متعلق ہی میں نے کئی الفاظ کی اصلاح کی اور جب تحقیقات کی گئی تو میری اصلاح درست نکلی تو خود مطالعہ کر کے بھی قابلیت پیدا کی جاسکتی ہے۔اگر موجودہ ایڈیٹر ترقی کر سکے تو اسے موقع دینا چاہئے۔پالیسی ہم مقرر کر دیں گے،