خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 374
خطابات شوری جلد اوّل ۳۷۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء لا يجدوا في أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا کہ اس فیصلہ کے تسلیم کرنے میں کوئی حرج اور تنگی محسوس نہ ہو۔رپورٹ کے نقائص چونکہ مجھے رپورٹ کی خوبیوں پر لمبا عرصہ بولنا ہے اس لئے ضروری سمجھتا ہوں کہ اس کے نقائص سوائے ایک کے پہلے بیان کر دوں۔رپورٹ لکھنے والوں نے بعض سامان اور مصالح جمع کئے مگر ان کے متعلق لکھنا بھول گئے حتی کہ نوٹ دینا بھی بُھول گئے مثلاً کمیشن کی مسل میں ایک کاغذ تعلیم کے متعلق ہے جس میں تجاویز درج ہیں مگر اُس پر ممبروں کے دستخط نہیں ہیں اور نہ اُس پر ان کی طرف سے کچھ لکھا ہوا ہے۔آئندہ جو کمیشن مقرر ہو اُسے یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ جو سامان وہ جمع کرے اُس پر دستخط ہوں اور ہر کاغذ نمبر دے کر شامل کیا جائے تا کہ ضروری امور کے متعلق بحث کرتے اور رپورٹ لکھتے وقت معلوم ہو سکے کہ فلاں کا غذ رہ گیا ہے اور رپورٹ لکھتے وقت نظر انداز ہو گیا ہے۔اسی طرح کمیشن سے ایک غلطی یہ ہوئی کارکنوں کو جوابدہی کا موقع دینا چاہئے اس امریکا ہے کہ بعض امور کے متعلق جب کہ بعض کارکنوں کے خلاف کمیشن نے رائے قائم کی ہے، ان کو موقع نہیں دیا گیا کہ جو الزام ان پر لگتا ہے اُس کے متعلق وہ جواب دے سکیں اور تشریح پیش کریں۔چونکہ کمیشن کے ایک ممبر نے ناپسند کیا ہے کہ ان کی باتوں پر تنقید کی جائے اس لئے مجھے یہ کہنا پڑتا ہے کہ گو کمیشن کے ممبروں کی نسبت میرا سیاسی مطالعہ زیادہ ہے مگر باوجود اس کے ان کی رپورٹ کے بعد میں نے مختلف کانسٹی ٹیوشنز کے متعلق کتب منگا کر اُن کا مطالعہ کیا ہے اور ان سے یہی معلوم ہوا ہے کہ کمیشن کا یہ طریق درست نہیں ہے۔آخری موقع کارکن کو جواب دینے کا ضرور دیا جاتا ہے۔اس سے کمیشن کے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں پیدا ہو سکتی تھی مگر جس کے متعلق وہ کوئی فیصلہ کرے اُس کے ساتھ انصاف ہو جاتا کہ جس پر کوئی الزام لگایا گیا اُسے صفائی کا موقع دے دیا گیا۔چونکہ کمیشن نے ایسا موقع نہیں دیا اس وجہ سے بعض نقائص پیدا ہو گئے ہیں۔مثلاً بجٹ کے متعلق لکھا ہے کہ اس میں ایک غیر معمولی مد ہونی چاہئے۔جو بجٹ چھپا