خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 363

خطابات شوری جلد اوّل ۳۶۳ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء ہے۔سوال یہ نہ تھا کہ عورتوں کو نمائندگی کا حق ہو یا نہ ہو؟ بلکہ یہ تھا کہ عورتوں کی نمائندگی کس طرح ہو اور کس حد تک ہو؟ اس کے لئے یہ بھی طریق ہوسکتا ہے کہ نمائندگی اصالتا نہ ہو وکالتاً ہو۔عورتیں اپنی طرف سے کسی مرد کو مقرر کر دیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عورتیں اپنی طرف سے مقرر کر دیں کہ فلاں فلاں عورت عظمند اور ہوشیار ہے، اُس سے مشورہ لے لینا چاہئے۔غرض سوال یہ تھا کہ نمائندگی کس طرح ہو اور کس رنگ میں ہو اور کس حد تک ہو؟ مگر اسے پیش ہی نہیں کیا گیا۔بحث کافی نہیں ہوئی میں سمجھتا ہوں اس مسئلہ پر ابھی کافی بحث نہیں ہوئی اور میں کوئی فیصلہ نہیں دیتا۔اسے یونہی چھوڑتا ہوں ،اگلے سال پھر اس پر بحث ہو۔اُس وقت ہم دیکھیں گے کہ عورتوں کو کس رنگ میں حق نمائندگی دینا چاہئے۔فی الحال یہ ایک رو چلا دی گئی ہے احباب دلائل سوچیں پھر اگلے سال بحث کر لی جائے گی۔“ اختتامی تقریر مجلس مشاورت کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد حضور نے اختتامی تقریر کرتے ہوئے فرمایا: - " جس قدر امور کے متعلق ہم فیصلہ کر سکتے ہیں وہ ہو گیا اور دو معاملات کو اگلے سال پر چھوڑ ا گیا، ایک کو اپنے فیصلہ سے اور دوسرے کو احباب کے سمجھوتہ سے۔کیونکہ اب کارروائی کو جاری رکھنے کے لئے وقت نہیں ہے، چونکہ دوست واپس جانے والے ہیں۔اس لئے میں توجہ دلاتا ہوں کہ جو کچھ انہوں نے یہاں سُنا اُسے یا درکھیں۔اس وقت سلسلہ کی مالی حالت نہایت نازک ہے۔۴۳ ہزار کے پہلے پل پڑے تھے ۸ ہزار کے آج اور بڑھ گئے اور اس طرح ۵۱ ہزار کے ہو گئے اِن کو ادا کرنا ہے۔احباب کو چاہئے کہ اپنی اپنی جگہ جا کر اس مالی بوجھ کو دور کرنے کی کوشش کریں۔مومن دوسرں کو جگانے کے لئے پیدا کیا گیا ہے نہ کہ وہ خود بھی بیدار نہ ہو۔سب لوگوں کو اچھی طرح بیدار کرو تا کہ کام خوبی کے ساتھ ہو۔دشمن ہمارے خلاف پورا زور لگا رہے ہیں۔کبھی جھوٹے الزام لگائے جاتے ہیں، کبھی جھوٹی باتیں کہی جاتی ہیں، کہیں لوگوں کو ہمارے خلاف اکسایا جا تا ہے۔غرض ہر رنگ میں ہمارے خلاف ناخنوں تک زور لگایا جا رہا ہے اور یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ ہماری کامیابی مبدل بہ ناکامی ہو جائے۔آپ صاحبان جو اپنی جماعتوں کے نمائندے بن کر آئے ہیں