خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 345
خطابات شوری جلد اوّل ۳۴۵ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء طرح ان کے گزارہ کے لئے رقم مقرر کر دی گئی۔میں اس کا نام نہیں جانتا اسے الاؤنس کہا جائے یا کچھ اور لیکن یہ اس غرض سے مقرر کی گئی تھی کہ ۱۰۰ روپیہ پنشن میں ان کا گزارہ نہ ہو سکتا تھا۔“ امریکہ مشن ناظر صاحب دعوة و تبلیغ کی طرف سے امریکن مشن کو بند کرنے کی تجویز پیش ہوئی۔بحث کے بعد رائے شماری کی گئی تو بھاری اکثریت امریکن مشن جاری رکھنے کے حق میں تھی۔اس موقع پر حضور نے فرمایا: - میں جہاں تک سمجھتا ہوں ناظر صاحب نے جس رنگ میں یہ معاملہ پیش کیا ہے اس پر ضرور اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ ایسے امر کو مجلس شوریٰ میں کیوں پیش کیا گیا جس کے متعلق میں فیصلہ دے چکا ہوں۔مجھ سے اس کے متعلق اجازت لینی چاہئے تھی کہ اسے پیش کیا جائے مگر وہ نہ لی گئی۔تاہم یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس پر کوئی اخلاقی یا مذہبی لحاظ سے اعتراض پڑتا ہے۔ناظر صاحب کا حق تھا کہ جس امر کو مفید نہ سمجھتے تھے اُسے پیش کرتے اور ایسی صورت میں اگر پیش نہ کرتے تو یہ بد دیانتی ہوتی لیکن رائے کے لحاظ سے جس طرف کثرتِ آراء ہیں اُدھر ہی میری رائے بھی ہے۔میں نے جرمن مشن کو مجلس مشاورت کے مشورہ سے بند کرنا منظور کر لیا تھا کیونکہ وہ ابھی باقاعدہ مشن نہ قائم ہو ا تھا، وہاں ابھی تیاریاں ہو رہی تھیں کہ مسجد بنائی جائے مگر امریکہ میں کئی سال سے کام ہو رہا ہے اور سینکڑوں نہیں ہزاروں آدمی ہماری جماعت میں داخل ہو چکے ہیں۔بعض ان میں سے بہت اخلاص بھی رکھتے ہیں خواہ وہ حبشی ہوں۔چندے بھیجتے رہتے ہیں، ان کی طرف سے خط آتا ہے تو کبھی پانچ کبھی دس ڈالر کا نوٹ اس میں ہوتا ہے۔یہ ایسی بات ہے جو ابھی تک ہمیں انگلستان میں بھی میسر نہیں آئی۔انگلستان کے نو مسلموں سے اب ایک سال سے چندہ لینے لگے ہیں مگر امریکہ کے نو مسلم خود بھیج دیتے ہیں، وہ خود چندہ کرتے اور اپنا خرچ کر کے جلسہ کرتے ہیں۔اس لحاظ سے وہ مستحق ہیں کہ ان کے پاس مبلغ ہو جو انہیں اسلام کی تعلیم سکھائے۔امریکہ کے لوگ تقریریں سننے کے بہت شائق ہیں۔چارلس ڈکنس (Charles Dickens) ایک مشہور آدمی ہے جو ناول لکھتا ہے اور ان میں انسانی دماغ کی باریک باتیں بیان کرتا ہے۔وہ