خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 344
خطابات شوری جلد اوّل چندہ خاص کی رقم بجٹ میں بڑھائی جائے۔“ ۳۴۴ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء ایک امر کی وضاحت بجٹ کے سلسلہ میں ایک امر کی وضاحت کرتے ہوئے حضور نے فرمایا : - اصل بات یہ ہے کہ جو بجٹ اس وقت پیش ہوا ہے یہ پاس شدہ نہیں بلکہ بجٹ کے متعلق میں نے یہ قانون مقرر کیا ہے کہ بغیر شوری کے مشورے کے پاس نہ ہو۔پہلے شوریٰ اس پر غور کرے پھر میں اُسے پاس کروں صدر انجمن کو اختیار نہیں کہ خود پاس کر دے یا اسے بڑھا دے۔صدر انجمن صرف بجٹ تجویز کرتی ہے اور اسے کوئی تجویز پیش کرنے سے روکنا غلطی ہے۔انجمن نے محض تجویز کی ہے کہ ناظر اعلیٰ کو ۲۰۰ روپے سالانہ ترقی دی جائے۔شوری اس پر غور کر کے مشورہ دے کہ میں اسے منظور کروں یا نہ کروں۔یہ غلط فہمی ہے کہ ناظر صاحب اعلیٰ کا اس تجویز میں کچھ دخل تھا وہ موجود نہ تھے ، انہیں اُس وقت انجمن سے اُٹھا دیا گیا تھا۔دیکھنا یہ چاہئے کہ ایسی صورت میں کیا ہونا چاہئے۔ان کا گریڈ تو مقرر نہیں کہ ترقی ہو، الاؤنس ہی زیادہ کیا جا سکتا ہے مگر یہ ترقی ایسی نہ ہوگی جو حق کے طور پر دی گئی ہو بلکہ یہ ہوسکتا ہے کہ پہلے اتنا کام کیا جاتا تھا اس لئے اتنا الاؤنس تھا اب اتنا ہے اس لئے الاؤنس بڑھانا چاہئے۔اب یہ غور ہونا چاہئے کہ ترقی کی جائے یا نہ کی جائے؟ صدر انجمن نے تجویز کی ہے آگے شوری کا کام ہے اسے منظور کرے یا نہ کرے۔اصل بات یہ ہے کہ ہم جماعت کے کام کرنے والوں کے حالات مد نظر رکھتے ہیں اور ان کی ضروریات دیکھتے ہیں۔میں نے اعلان کیا تھا کہ بعض دوست جو پنشن لے کر دوسری جگہ کام کر سکتے ہوں وہ یہاں آ کر مفت کام کر سکیں تو کریں ورنہ کچھ گزارہ لے کر کریں۔اس پر چوہدری نصر اللہ خان صاحب مرحوم اور ذوالفقار علی خان صاحب نے اپنے آپ کو پیش کیا۔چوہدری صاحب کی تو ایسی حالت تھی کہ اپنا گزارہ آپ کر سکتے تھے مگر خان صاحب کی ایسی حالت نہ تھی ان سے ملازمت میں ایک غلطی ہوگئی اس وجہ سے جو پنشن لے سکتے تھے وہ نہ لے سکے۔پنشن کے بعد انہیں رامپور میں بھی ملازمت کے لئے کہا گیا اور شاید کسی اور جگہ سے بھی انہیں جگہ مل جاتی مگر وہ یہاں آگئے۔چونکہ ۱۰۰ روپیہ پنشن میں ان کا گزارہ نہ ہو سکتا تھا اس لئے تجویز کی گئی کہ ڈیڑھ سو روپیہ بطور الاؤنس دیا جائے۔اس