خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 334
خطابات شوری جلد اوّل ۳۳۴ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء کہ بعض لوگ یہاں آکر نکاح کا اقرار کر جاتے ہیں لیکن رشتہ دار لڑکی پر زور ڈال کر انکار کرا دیتے ہیں۔دوسروں میں تو یہ ہوتا ہے کہ برات جاتی ہے جو لوگ اس میں شامل ہوں انہیں معلوم ہوتا ہے کہ فلاں لڑکے لڑکی کے نکاح کے لئے چلے ہیں اور انہیں یہ بات یاد رہتی ہے۔جب ان کی گواہی کی ضرورت ہو تو دے سکتے ہیں لیکن ہمارے ہاں مسجد میں کسی نماز کے بعد اعلان ہوتا ہے کہ نکاح ہوگا جو لوگ وہاں موجود ہوتے ہیں انہیں عام طور پر معلوم نہیں ہوتا کہ لڑکا کون ہے اور لڑکی کون اور مہر کتنا اور جب یہ باتیں سنائی جاتی ہیں تو وہ یاد رکھنے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔پھر اگر کوئی معاملہ عدالت میں جائے تو کہہ دیتے ہیں ہمیں یاد نہیں۔پھر نماز کے لئے تو عموماً ایک ہی لوگ ہوتے ہیں انہیں اگر شہادت میں پیش کیا جائے تو عدالت پر یہ اثر پڑتا ہے کہ یہ اٹھنی والے گواہ ہیں جو ہر مقدمہ میں پیش ہوتے ہیں۔حالانکہ ہماری جماعت میں وہ بہت معزز ہوتے ہیں۔ان مشکلات کی وجہ سے یہ فارم تجویز کیا گیا ہے لیکن وہ دوست جو لڑکی لڑکے دونوں کو یہاں لے آئیں انہیں فارم پُر کرانے کی ضرورت نہ ہوگی۔لڑکی سے پوچھ لیا جائے گا اگر وہ خاموش رہی تو بھی کافی ہوگا۔صرف اُن دوستوں کو فارم پُر کرنا ہوگا جو نہ لڑکی کو لاسکیں نہ لڑکے کو۔ان کے لئے ضروری ہوگا کہ فارم پر کریں یا پھر اپنی جگہ پر نکاح پڑھوائیں۔میں امید کرتا ہوں کہ دوستوں کو اس فارم کی وجہ سے کسی قسم کی تکلیف نہ ہوگی بلکہ ایک حد تک فائدہ ہی رہے گا۔“ مقامی تنازعات کے رفع کرنے سب کمیٹی امور عامہ کی تجویز کہ:- کسی خاص پنچایت کی جس کے ممبر مخصوص اشخاص کیلئے محتسب مقرر کرنے کی تجویز ہوں ضرورت نہیں۔البتہ مقامی تنازعات کے لئے محتسب مقرر کئے جائیں جو خود یا دیگر بااثر احباب کے ذریعہ فریقین میں سمجھوتہ کرا دیا کریں۔اگر سمجھوتے کی کوئی صورت نہ رہے تو معاملہ مقامی قاضی کی خدمت میں برائے فیصلہ پیش کیا جائے۔اگر مقامی قاضی مقرر نہ ہو تو مرکزی قضاء سے فیصلہ کرا دیا جائے “ کی بابت بعض ممبران کے اظہار رائے واستنفسار پر حضور نے فرمایا:-