خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 317
خطابات شوری جلد اوّل ۳۱۷ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء کس حد تک۔عورتوں کے متعلق یہ سوال ہر جگہ پیدا ہو رہا ہے اور ہمارے ہاں تو ضرور پیدا ہونا چاہئے کہ جب اسلام نے بعض حقوق مردوں عورتوں کے مساوی رکھے ہیں تو کیوں اہم معاملات کے متعلق ان سے مشورہ نہیں لیا جا تا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اپنے گھروں میں مشورہ لیا اس لئے کیوں نہ عورتوں کو یہ حق دیا جائے۔چاہئے کہ دلائل کے ساتھ اس پر گفتگو کی جائے کہ عورتوں کو حقوق نمائندگی حاصل ہونے چاہئیں یا نہیں؟ بہر حال اس کے متعلق غور کرنا ہے۔اگلے سال اس معاملہ کو مجلس مشاورت میں رکھا جائے گا تا کہ اس بارے میں قطعی طور پر فیصلہ کر دیا جائے۔اس کے بعد میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہمارے کاموں میں برکت ڈالے۔میں نے دعا دیکھا ہے بعض لوگ ابھی تک نیکی اور اخلاص کی اس حد کو نہیں پہنچے جو مومن میں ہونی چاہئے۔مومن وہ ہوتا ہے جس میں ایسا ایمان گھر کر جاتا ہے کہ وہ صحیح رستہ سے نہیں ہٹ سکتا مگر بعض لوگوں کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر ٹھوکر لگ جاتی ہے اور معمولی باتوں پر طیش میں آجاتے ہیں۔یہ بات کامل ایمان کے خلاف ہے۔میں اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتا ہوں اور لوگوں سے بھی چاہتا ہوں کہ دُعا کریں۔ایسا کامل ایمان حاصل ہو کہ نفس مٹ جائے اور ہم خدا تعالیٰ کے لئے ہو جائیں۔زندگی میں اُس کے لئے جئیں اور جب ایک نہ ایک دن مرنا ہے تو کیوں نہ اس زندگی میں ہی اُس کے لئے مر جائیں تا کہ یہ زندگی بھی اُس کے لئے اُسی طرح ہو جائے جس طرح مرنے کے بعد ہوگی۔“ (مطبوعہ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء) بخاری کتاب التفسير تفسير سورة الاحقاف باب قوله فَلَمَّا رَأَوُهُ عارضًا (الخ) بخارى كتاب الصلوة باب قول النَّبي صلى الله عليه وسلم جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا (الخ) البقره: ۴۸ الاعلى: ۱۰ ۵ الضحى : ۱۲ ه الاعراف: ۲۰۵ ك كنز العمال جلد ۵ صفحه ۶۴۸ مطبوعه حلب ۱۹۷۱ء