خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 316
خطابات شوری جلد اوّل ۳۱۶ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء ہمیں اپنے تمام کاموں میں استقلال دکھانا چاہئے۔عیسائیوں کے استقلال کو دیکھو بے شک وہ کروڑوں میں سے چند ایک کو ایسے کام کے لئے چنتے ہیں جو تمہیں تھیں سال ایک کام میں لگے رہتے ہیں مگر ان لوگوں کی یہ قربانی ہمارے لئے کوڑے کا کام دینے والی ہونی چاہئے۔عیسائیت میں ہے کیا ایک انسان کو خدا بنایا گیا ہے مگر چالیس لاکھ ہندوستان کے لوگ عیسائی ہو چکے ہیں۔آج عیسائیت کو جو ہندوستان میں باہر سے آئی ہے حقوق حاصل ہیں۔مگر احمدیت کو جو یہاں کی ہے وہ حقوق حاصل نہیں ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ عیسائیوں نے بڑے استقلال سے کام کیا ہے۔پس میں اپنی جماعت کے لوگوں سے کہتا ہوں اب بھی بیدار ہوں اور پچھلی دفعہ جو عہد کیا گیا تھا اُسے پھر یاد دلاتا ہوں جو دوست پچھلے سال نہ آئے تھے وہ آج سے عہد کریں کہ واپس جا کر اُن لوگوں کا اخلاص بڑھائیں گے جن میں اخلاص ہے اور جن میں نہیں ان میں پیدا کریں گے۔اسلام کی محبت پھیلانے اور اسلام کی اشاعت کرنے میں لگ جائیں اور قرآن کریم کی روشنی جومٹ رہی ہے اُسے قائم کریں۔اپنا محاسبہ کرتے رہو میں نے بتایا ہے دوستوں میں پہلے کی نسبت بہت تغیر ہے اور یہ بہت خوشی کی بات ہے مگر ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنا محاسبہ کرتے رہیں اور دیکھیں ہر روز ہمارا قدم آگے بڑھ رہا ہے یا نہیں؟ پس میں دوستوں سے ایک بات تو یہ کہتا ہوں کہ ہر روز قدم آگے بڑھائیں۔اخلاص و محبت بڑھائیں اور دوسرے بھائیوں میں بھی پیدا کریں۔عورتوں کے رائے دینے کا استحقاق اس کے بعد چونکہ وقت بہت کم رہ گیا ہے احباب نے ابھی کھانا کھانا ہے اور تین بجنے والے ہیں۔میرا منشا تو زیادہ تقریر کرنے کا تھا مگر میں اسے چھوڑتا ہوں اور صرف ایک بات کہتا ہوں احباب اس کے متعلق سوچ لیں۔اگلے سال اس معاملہ کو مجلس مشاورت میں رکھا جائے گا۔کل کی بحث سے مجھے یہ خیال نہیں پیدا ہوا بلکہ پہلے سے میں نے لکھا ہوا تھا اور وہ معاملہ عورتوں کی نمائندگی کا ہے۔میں اس کے متعلق کوئی فیصلہ کرنے سے قبل دوستوں کی رائے معلوم کرنا چاہتا ہوں۔سب دوستوں کو خصوصاً علماء کو اطلاع دیتا ہوں کہ وہ اِس پر غور کریں کہ مجلس مشاورت میں عورتوں کی نمائندگی ہونی چاہئے یا نہیں؟ اور اگر ہونی چاہئے تو