خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 315
خطابات شوری جلد اوّل ۳۱۵ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء کہ ہدایت خدا تعالیٰ ہی پھیلاتا ہے مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ہدایت پھیلانے کے لئے آسمان سے فرشتے نہیں آیا کرتے ، انسان ہی یہ کام کیا کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بدر کی جنگ کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دُعا کی تھی کہ مسلمان مٹھی بھر ہیں اگر یہ تباہ ہو گئے تو پھر اسلام کا کیا بنے گا۔پس اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہماری کوئی طاقت نہیں ہے مگر خدا تعالیٰ انسانوں سے ہی اپنے دین کی اشاعت کراتا ہے۔اگر ہم بھی توجہ نہ کریں تو پھر اسلام کی خدمت کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔جہاں کوئی اور بھی کام کرنے والا ہو وہاں کوئی سستی بھی کر سکتا ہے لیکن جہاں ایک ہی کام کرنے والا ہو، اُس کی سستی کا نتیجہ سوائے تباہی کے کچھ نہیں ہوتا۔اس وقت یہ موقع نہیں ہے کہ مختلف جماعتیں اسلام کا کام کر رہی ہیں۔اسلام کی ترقی کا انحصار صرف احمد یہ جماعت پر ہے اور حالات نازک سے نازک تر ہوتے جا رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام الہام ہے۔آگ ہماری غلام بلکہ ہمارے غلاموں کی غلام ہے ایک معنی اس کے یہ ہیں کہ مصائب اور آفات آپ کی جماعت کو تباہ نہ کریں گے۔مگر اس کے ایک اور معنی بھی ہیں۔آگ کا لفظ مختلف معنی رکھتا ہے۔آگ مصائب کے معنوں میں استعمال ہوتی ہے اور محبت کے معنوں میں بھی۔پس اس الہام میں یہ بتایا گیا ہے کہ دنیا کے مصائب ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے آگ ہمارا کام کر رہی ہے۔یعنی عشق الہی کی آگ ہماری کمزوریوں کو جلا رہی ہے اور جب دل میں عشق الہی کی آگ جل جاتی ہے تو پھر اس کی علامات مونہوں سے بھی ظاہر ہونے لگتی ہیں۔پس ہماری جماعت کے ہر فرد کے دل میں محبت الہی کا ایسا شعلہ ہو کہ منہ سے بھی نکلتا ہو اور ہر احمدی اس آگ کو اِس طرح بھڑکائے کہ اس کا چہرہ دیکھ کر لوگ سمجھ جائیں یہ اسلام کا سچا عاشق ہے جو اسلام کے لئے جان بھی دے دے گا مگر قدم پیچھے نہ ہٹائے گا۔ہر رنگ میں ترقی میں نے دیکھا ہے پچھلی مجلس مشاورت سے احباب نے ہر رنگ میں ہر ترقی کی ہے اور مالی اور دوسری مشکلات کے متعلق کسی قدر تسلی ہوئی ہے اور اس وجہ سے چند راتیں میں نے بھی آرام کی بسر کی ہیں۔مگر اتنی ترقی کافی نہیں ہے،