خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 314

خطابات شوری جلد اوّل ۳۱۴ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء کر لیں۔ہم ہر روز مسجدوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام زبان پر آتا ہے تو صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہتے ہیں مگر آپ کی عزت اور عظمت قائم کرنے کے لئے اپنے آپ کو مٹا دینے کی تڑپ نہیں پیدا ہوتی تو کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سچی محبت ہے۔مصائب اسلام کا صحیح نقشہ وہ مصائب جو اس زمانہ میں اسلام پر آرہے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کا کیا ہی صحیح نقشہ کھینچا ہے۔یہ جانتے ہوئے کہ کربلا کے واقعہ کے بیان کرنے میں بہت کچھ مبالغہ سے کام لیا جاتا ہے۔جب یہ نقشہ سامنے آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وہ نواسہ جسے آپ پیار کرتے تھے اور لوگوں سے کراتے تھے دریا سے پانی لینے سے روکا گیا اور وہ پیاسا تڑپتا رہا تو دل کانپنے لگتا ہے مگر قرآن اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حالت اس زمانہ میں اُس سے بھی بڑھ کر ہے۔کربلا کے واقعہ کو ایک دردمند جماعت نے نمایاں کر کر کے ایسا بنا دیا ہے کہ ہر شخص جو سنتا ہے اُس کے دل میں درد پیدا ہو جاتا ہے اس کا حوالہ دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔ہر طرف کفر است جوشاں ہمچو افواج یزید دین حق بیمار و بیکس ہمچو زین العابدین کہ جس طرح زین العابدین کی کیفیت ہو گئی تھی کہ اُس کے سارے عزیز واقارب مارے گئے تھے، وہی حالت آج اسلام کی ہے۔یہ نقشہ نہایت سچائی پر مبنی ہے بلکہ اپنی مثال سے بھی بڑھ کر ہے۔کوئی اور مثال نہ تھی اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسلام کی حالت کے متعلق یہ دی ہے۔مسلمان کہلانے والے اسلام کو چھوڑ چکے ہیں، ترک اسلام سے بہت دُور ہو چکے ہیں، افغان یا تو دیوانہ ملا ہیں یا اسلام سے دُور ہیں ، ایران میں یہ اسلام نہایت بے کس و بے بس ہے، مصر وغیرہ ممالک میں بھی بہت بے کسی کی حالت میں ہے۔اسلام کے لئے جوش اور تڑپ صرف ہندوستان میں اسلام کے متعلق اگر کسی کو جوش اور تڑپ کا دعوی ہے تو وہ ہماری جماعت ہے۔ایسی خطرناک حالت میں اگر ہماری جماعت کی سی کمزور جماعت بھی پوری توجہ اسلام کی حفاظت کے لئے نہ کرے تو بتاؤ پھر اسلام کی حفاظت کا اور کیا ذریعہ ہے۔اس میں شبہ نہیں