خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 306
خطابات شوری جلد اوّل ۳۰۶ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء بعد خانے بننے لگے ، فارم تیار ہوئے۔پھر مجھے خیال آیا کہ اور دوستوں کو بھی بجٹ کے متعلق مشورہ میں شریک کرنا چاہئے۔یہاں کام کرنے والے دیانتدار ہیں مگر ممکن ہے کوئی ایسی غلطی ہو جو میں معلوم نہ کر سکوں اس لئے بیرونی احباب کو بھی اس مشورہ میں شامل کرنا چاہئے۔چنانچہ جب سے اس طریق پر عمل شروع کیا ہے کئی مفید باتیں حاصل ہوئی ہیں۔اسی دفعہ بجٹ میں میعاد کے اضافہ کے متعلق جو بحث ہوئی ہے وہ بہت مفید ہے۔بیت المال والے وقت کا اضافہ کرا لیتے۔میں اس وقت اس کے متعلق رضامند نہ ہوتا مگر کہا جاتا کہ سرکاری صیغہ جات میں اسی طرح ہوتا ہے۔اب معلوم ہوا کہ یہ طریق درست نہیں ہے۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ مہینہ کی ایک مقررہ تاریخ تک بجٹ کھلا رہے مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ کبھی سال ۱۲۔ماہ کا ہو کبھی ۱۳۔ماہ کا اور کبھی ۱۱۔ماہ کا۔تو یہ باتیں بھی مفید ہیں کہ بجٹ کی تفصیل دی جائے مگر اس میں مشکل یہ ہے کہ ایک ایک بات پر اتنی لمبی بحث ہوگی کہ اور کام نہیں ہو سکے گا۔پارلیمینٹوں میں بھی کئی کئی دن بجٹ کے لئے رکھے جاتے ہیں مگر یہاں اتنا وقت دوست نہیں دیتے اس لئے یہ تجویز ہوئی تھی کہ مختصر طور پر مذات درج کی جائیں مگر ناظر صاحب بیت المال نے ایسا اختصار کیا ہے کہ واقعی بجٹ سمجھ میں نہیں آتا۔چنانچہ بجٹ پیش ہونے سے پہلے میری ان سے جو آہستہ آہستہ باتیں ہو رہی تھیں وہ یہی تھیں کہ میری سمجھ میں بجٹ نہ آتا تھا اور جب میں ان سے پوچھتا تو معلوم ہوتا کہ اس اختصار میں بعض باتیں ان کی سمجھ میں بھی نہیں آتیں۔پیر صاحب کی یہ بات معقول ہے کہ بجٹ کی تفصیل ہونی چاہئے۔نیز صیغہ جات میں رقوم کے گھٹا نے بڑھانے کی وجہ بھی بتانی چاہئے۔اسی طرح پیر صاحب کی یہ تجویز بھی عمدہ ہے کہ جو خرچ دکھایا جاتا ہے، اُس کی تفصیل ہونی چاہئے۔۱۳ ہزار مقبرہ بہشتی کا خرچ دکھایا گیا ہے، یہ حیرت میں ڈالنے والا خرچ ہے اور واقعہ میں اتنا خرچ ہے بھی نہیں۔اس لئے یہ بتانا چاہئے تھا کہ یہ کس طرح خرچ ہو گا۔اسی طرح نو ر ہاسپٹل کے متعلق جو تجویز انھوں نے بتائی ہے وہ بھی معقول ہے۔گو یہاں کے ڈسٹرکٹ بورڈ اور ہماری کوششوں کا انھیں پتہ نہیں ہے۔حالات ایسے ہیں کہ ممکن ہے اور کوشش کی جائے تو وہ بھی جاتا رہے جو کچھ ملتا ہے۔بڑی کوشش سے اتنی ایڈ منظور ہوئی ہے تاہم کوشش جاری رکھنی چاہئے۔یہ بھی صحیح ہے کہ مذ کا نام ناظر کی بجائے