خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 305

خطابات شوری جلد اوّل ۳۰۵ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء بجٹ کے بارہ میں آراء حاصل کرنے کے بعد حضور نے فرمایا :- چونکہ سلسلہ کے اخراجات نہ کسی کی ہاں پر چلتے ہیں اور نہ ناں سے بند ہو سکتے ہیں، اس لئے ان کی منظوری دیتا ہوں۔نہ کہنے والوں کی بھی آواز میں نے سُن لی ہے۔مجھے ان سے اتفاق نہیں ہے اس لئے بجٹ میں تخفیف کی ضرورت نہیں سمجھتا۔میں اس وقت جو تقریر کرنا چاہتا ہوں ، اس میں بعض باتیں بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔اگر میرا خیال غلط نہیں اور پیرا کبر علی صاحب کے متعلق چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے اپنا جو تجربہ بیان کیا ہے وہ درست ہے تو کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ چودھری صاحب ان کے الفاظ کا وہ مفہوم سمجھیں جو اُنھوں نے بیان کیا ہے۔میرا خیال ہے کہ ان کے الفاظ کا وہ مفہوم نہیں جو چوہدری صاحب نے سمجھا ہے۔ان کے الفاظ کا مجھ پر بھی اثر ہوا تھا مگر میں نے ان کے وہ معنی نہیں لئے تھے جو چوہدری صاحب نے لئے ہیں۔میں نے یہ سمجھا تھا پیر صاحب یہ کہہ رہے ہیں کہ سوال کرنے کا ایک اعتراض کا رنگ ہوتا ہے جس سے دیانت اور امانت پر حملہ کرنا مقصود ہوتا ہے اسے اختیار کرنے والا ایمان سے محروم ہو جاتا ہے۔میں اس رنگ میں کلام نہیں کر رہا۔گو پیر صاحب کے الفاظ ایسے محتاط نہ ہوں کہ کسی کو وہ خیال نہ پیدا ہو سکے جو چوہدری صاحب کو ہوا۔یہ شبہ بھی پیدا ہو سکتا ہے مگر ان کے الفاظ کے دو ہی معنے میں نے سمجھے ہیں ایک یہ کہ جب وہ تقریر کرنے لگے ہوں تو کسی نے کہہ دیا ہو کہ پیغامیوں کی طرح آپ بھی اعتراض کرنے لگے ہیں اور دوسرے یہ کہ میں ایسے اعتراض نہیں کرنے لگا جن سے کوئی ایمان سے خارج ہو جاتا ہے بلکہ سلسلہ کی بہتری کے لئے کچھ کہنا چاہتا ہوں اور آگے چل کر جو باتیں اُنھوں نے پیش کیں وہ ساری کی ساری ایسی ہیں جو کہ مفید اور سلسلہ کے لئے فائدہ مند ہیں نہ کہ نقصان دہ۔اور ناظروں کو ان کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔اب جس طرح بجٹ بنتا ہے اس سے کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بجٹ نہ بنتے تھے۔حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں بننے لگے مگر آپ نے کبھی نہ دیکھے۔میرے زمانہ کے ابتداء میں اسی طرح ہوتا رہا مگر پھر میں نے بجٹ دیکھنے شروع کئے۔اُس وقت مجھے بھی کچھ سمجھ میں نہ آتا تھا جس طرح آپ لوگوں کی سمجھ میں اب نہیں آتا اس لئے میں نے کہا بجٹ کی تشریح کیا کرو۔اس کے