خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 304

خطابات شوری جلد اوّل ۳۰۴ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء جب اُسے موقع مل گیا تو اس نے اس خواہش کا اظہار کیا۔تو یہ تبلیغ کے ذرائع ہوتے ہیں۔اگر چوہدری عصمت اللہ صاحب ٹی پارٹی دیں اور اس میں وکلاء اور سرکاری عہدہ داروں کو بلائیں تو آجائیں گے اور اگر یوں وعظ سننے کے لئے بلائیں تو نہ آئیں گے۔پھر کہا گیا ہے کہ سادگی اختیار کرنی چاہئے مگر سادگی کی کوئی حد بھی ہونی چاہئے۔ایک شخص نے مجھے لکھا کہ میری تبدیلی کا سوال در پیش ہے تم خود وہاں افسر کے پاس جا کر سفارش کرو کہ تبدیلی روک دیں۔اس شخص کے نزدیک یہ بھی سادگی میں داخل تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سادگی کا ذکر کیا جاتا ہے مگر جب آپ نے بادشاہوں کو خط لکھا اور آپ کو بتایا گیا کہ وہ مُہر کے بغیر خط نہیں لیتے تو آپ نے فرمایا مہر بنواؤ۔اس وقت آپ نے یہ نہ کہا کہ چلو سادگی سے کام لینا چاہئے ، مہر کی کیا ضرورت ہے۔جماعت کے یہ معززین جو اس وقت یہاں بیٹھے ہوئے ہیں ان کی طرف میں جس قسم کی توجہ کر سکتا ہوں کرتا ہوں مگر ان سے ادنیٰ درجہ کے بھی غیر احمدی آتے اور ان سے انہی کی طرح سلوک کروں تو کیا وہ خوش ہو جائیں گے؟ ان معززین کے اگر ماتحت غیر احمدی بھی آتے تو مجھے ان سے زیادہ ان کی طرف توجہ کرنی پڑتی۔اس قسم کی باتیں تھیں جو اس تجویز پر غور کرنے کے وقت پیش کرنی چاہئیں تھیں مگر تقریروں میں ایسی مضحکہ خیز صورت پیدا ہوگئی کہ مجھے بھی اس پر ہنسی آنے لگی۔“ تیسرا دن مجلس مشاورت کے تیسرے دن ۸۔اپریل ۱۹۲۸ء کو سب کمیٹی بیت المال کی رپورٹ پیش ہوئی اور بجٹ غالب اکثریت کی طرف سے ہاں کہنے پر پاس ہوا۔چند ایک نے نہ بھی کہا۔حضور نے اپنی تقریر کی ابتداء میں اس امر کی طرف اشارہ فرمایا کہ مکرم پیر اکبر علی صاحب نے اپنی تقریر کے دوران میں کہا تھا کہ اعتراض کرنے والوں کو نقل مکان کر کے لاہور جانا پڑا۔اس پر صدر مجلس چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔حضور نے اس غلط فہمی کا ازالہ کرتے ہوئے صورتِ حال کی وضاحت بھی فرما دی۔چنانچہ