خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 303
خطابات شوری جلد اوّل ۳۰۳ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء فوت ہو گئے بلکہ وہ اِس بات پر غور کرے گا کہ سیاسی لحاظ سے امراء میں تبلیغ کرنے کے کیا فوائد ہیں۔وہ ان علوم کو پڑھے گا جو امراء سے تعلق رکھتے ہیں مثلاً علم النفس کا مسئلہ ہے۔اس کے ذریعہ جو اعتراض ہو سکتے ہیں ان کے جواب سوچے گا۔پھر ایسے مخصوص سوالات جو اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں ان کے متعلق سٹڈی کرے گا۔دوسرے مبلغ بھی ان باتوں کے جواب دیتے ہیں اور معقول جواب دیتے ہیں مگر چونکہ ان اصطلاحوں میں نہیں دیتے جو اُن باتوں کے لئے مقرر ہیں اس لئے ان کے جواب کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔علم النفس کا ایک نقطہ جب کسی بچہ کے منہ سے نکلتا ہے تو وہ ایک عالم کے دماغ پر اثر نہیں کرتا مگر جب اسی بات کو منطقی اصطلاحوں سے سجا کر کوئی بیان کرتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ کیا اچھا کلام ہے۔پس جب تک ایسے مبلغ تیار نہ کئے جائیں جو ایسی باتوں کی تیاری کریں اس طبقہ کے لوگوں کو مائل نہیں کیا جا سکتا۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ان کی زبان میں اور ان کے مذاق کے مطابق گفتگو کرنے والے ہوں تا کہ ان لوگوں پر ان باتوں کا اثر ہو۔باقی رہی دعوتیں، ہر طبقہ تک پہنچنے کے لئے مختلف ذرائع ہوتے ہیں اور دعوت کرنا کوئی بُری بات نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب ایک دفعہ لا ہور تشریف لے گئے تو امراء کو تبلیغ کرنے کے لئے آپ نے اُن کی دعوت کی۔یہ دعوت ایک غیر احمدی شاہزادہ محمد ابراھیم صاحب کی طرف سے کی گئی اور روپیہ ہمارا اپنا خرچ ہوا۔اس میں بہت سے لوگ آگئے جنھیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے باتیں سُنا ئیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ایک دفعہ اسی قسم کی دعوت کی جب لوگ کھانا کھا چکے تو آپ وعظ کے لئے کھڑے ہوئے مگر لوگ چلے گئے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ اگر چہ اُس وقت بچے تھے مگر انھوں نے کہا پہلے تبلیغ کی جائے اور پھر کھانا کھلایا جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح کیا اور تبلیغ کی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب اس دعوت کے موقع پر وعظ شروع کیا تو کسی نے کہا ہم تو کھانا کھانے کے لئے آئے تھے مگر یہ کیا ہونے لگا ہے؟ اس پر ایک شخص نے جسے شرابی کہا جاتا تھا کہا کھانا تو ہم روز کھاتے ہی ہیں مگر یہ کھانا کہاں نصیب ہوتا ہے۔یہ بات تو اس نے بہت معقول کہی مگر وہ بھی کھانا کھانے کے لئے ہی آیا تھا خود بخود نہ آیا تھا۔اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس میں پہلے حق کی خواہش نہ تھی مگر