خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 269
خطابات شوری جلد اوّل ۲۶۹ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء اُس وقت میں ساتویں یا آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا مگر آپ نے میرا یہ امتحان لیا کہ ایک فقرہ نقل کرایا۔تو اللہ تعالیٰ نے مجھے امتحانوں سے بھی بچایا۔جن امتحانوں میں خود پڑے اُن میں فیل ہوئے اور جن امتحانوں کے لئے آپ نہ گئے اُن کو خدا تعالیٰ نہ لایا۔تو اپنی ذات کے متعلق تو میں کہہ سکتا ہوں کہ میں ہرگز اس کام کے قابل اپنے آپ کو نہیں پاتا جس کے لئے خدا تعالیٰ نے کھڑا کیا اور میں تو اس کام کے قابل بھی اپنے آپ کو نہیں پاتا جو اپنے طور پر کرتا ہوں۔ہاں میں یہ ضرور محسوس کرتا ہوں کہ میرے پیچھے ایک اور ہستی ہے اور ایک بالا طاقت ہے۔جب میرا قدم چلنے سے اور ہاتھ اُٹھنے سے رہ جاتے ہیں تو وہ ہستی آپ اُٹھاتی ہے اور آسمان کی بلندیوں پر لے جاتی ہے۔وہی طاقت ہر احمدی کے پیچھے ہے جو اپنی ذات کے متعلق تکبر نہیں کرتا، وہ اُسے اُٹھاتی ہے اور آئندہ بھی اُٹھائے گی۔معارف قرآن سمجھنے کیلئے مشورہ مجھ سے جب کوئی کہتا ہے کہ تبلیغ میں کامیابی حاصل کرنے اور قرآن کریم کے معارف سمجھنے کے لئے کوئی نصیحت کرو تو میں اُسے یہی مشورہ دیتا ہوں کہ اپنے دماغوں اور دلوں کو بالکل خالی کر لو اور خدا تعالیٰ کے سامنے اپنے آپ کو بالکل جاہل بنا لو۔یہی اور صرف یہی ذریعہ ہے روحانی علوم حاصل کرنے اور روحانی امور کے سمجھنے کا۔خدا تعالیٰ کے آگے گر جاؤ وہ خود تمھیں اُٹھائے گا، اپنے آپ کو بے طاقت سمجھ لو وہ خود تمھیں طاقت عطا کرے گا۔ایک لطیف مثال ایک بزرگ نے کیا ہی لطیف مثال دی ہے کہتے ہیں دیکھو جب کسی درندے کے آگے انسان لیٹ جائے تو وہ بھی اُسے زخمی نہیں کرتا۔پھر تم خدا تعالیٰ کو کیوں ایسی ہستی نہیں یقین کرتے کہ جو اُس کے آگے گر جاتا ہے، اُسے وہ ضائع نہیں کرتا۔حقیقی کامیابی کا گر پس کچی اور حقیقی کامیابی کا گر یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کے آگے گر جاؤ۔اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کا اُس کے سامنے اقرار کرو ورنہ جو دل میں یہ سمجھتا ہے کہ میں بھی کچھ کر سکتا ہوں مگر لوگوں کے سامنے کہتا ہے میں کیا اور میری طاقت کیا وہ منافق ہے، وہ جھوٹا ہے۔منکسر المزاج وہ ہے جو دل میں بھی اقرار کرتا