خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 268

خطابات شوری جلد اوّل ۲۶۸ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء میں سے کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ہے جو اپنے ایمان کے مطابق کہہ سکتا ہو کہ وہ اپنے ذاتی علم کی وجہ سے کام کرتا ہے اور اپنے متعلق تو میں یہاں تک کہتا ہوں کہ جو کام خدا تعالیٰ مجھ سے کراتا ہے اُس کے متعلق میں اپنے اندر ذرا بھی طاقت نہیں پاتا۔میں نے مڈل کا امتحان دیا تو اس میں فیل ہو گیا۔انٹرنس کا امتحان دیا تو اُس میں بھی فیل ہو گیا۔بسا اوقات گھر کی عورتیں تک کہہ دیتی تھیں کہ یہ کیا امتحان پاس کرے گا۔ایک بھی سند نہیں دُنیا کے علم کی جو پیش کرسکوں۔دنیا کو چیلنج مگر میں نے خدا تعالیٰ کے فضل کے ماتحت بار ہا چیلنج دیا ہے کہ کوئی مخص دُنیا میں ہو جو احمدی نہ ہو، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے فیض یافتہ نہ ہو، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نہ ماننے والا یا آپ کا درجہ گھٹانے والا ہو وہ آئے اور قرآن کریم کا کوئی رکوع قرعہ کے ذریعہ نکال کر اُس کی تفسیر لکھے۔اگر میں نئے معارف اور حقائق اُس سے بڑھ کر بیان نہ کروں تو مجھے جھوٹا سمجھا جائے ، ورنہ وہ حق کو مان لے مگر دُنیوی علم کی کوئی سند میرے پاس نہیں ہے۔مدرسوں کی شکایت جب میں پرائمری میں پڑھتا تھا تو مدرسوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے میری شکایت کی کہ یہ کچھ نہیں پڑھتا۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اس نے کیا نوکری کرنی ہے۔حضرت میر صاحب ( نانا جان مرحوم نے خدا تعالیٰ بڑی بڑی رحمتیں اُن پر نازل کرے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک دفعہ آ کر کہا محمود نے تو ابھی تک کچھ سیکھا ہی نہیں، اسے کچھ آتا ہی نہیں۔اُن کی یہ باتیں میں بھی سُن رہا اور کانپ رہا تھا کہ نہ معلوم اب کیا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا مولوی صاحب ! ( حضرت خلیفہ اول) کو بلا ؤ۔جب وہ آئے تو کہا میر صاحب یوں کہتے ہیں۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا میں نے امتحان لیا تھا اتنا برا تو نہیں۔حضرت مسیح موعود کا امتحان لینا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اچھا ہم خود امتحان لیتے ہیں۔اس پر آپ نے ایک فقرہ لکھ کر فرمایا یہ لکھو۔میں نے وہ لکھ دیا۔اُسے دیکھ کر فرمانے لگے یہ تو خوب لکھ سکتا ہے۔