خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 267

خطابات شوری جلد اوّل ۲۶۷ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء منہ سے ہماری تعریف کر رہا ہے گویا وہ ہماری تعریف کر کے ذلیل ہو گیا۔اب چاہئے تھا کہ پھر وہ ہماری تعریف نہ کرتا مگر وہ پھر کرتا ہے اور خدا تعالیٰ انہیں مجبور کر رہا ہے کہ وہ اس بات کا اعتراف کریں کہ اسلام کی خدمت کرنے والی اگر کوئی جماعت ہے تو وہ احمد یہ جماعت ہی ہے۔اپنے کام کا اندازہ ہم اپنے کام کا اندازہ خود نہیں کر سکتے اور نہ کرنا چاہئے کیونکہ اپنے متعلق انسان اندازہ کرتے ہوئے غلطی کر جاتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ ہمارے کام کا اندازہ دشمن سے کراتا ہے اور یہ اُس کے فضل کا نتیجہ ہے ورنہ ہم کیا اور ہمارا کام کیا۔تکبر اور خودی سے بچو پس ہمیں خصوصیت سے یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ اپنے او پر خدا تعالیٰ کی نعمتوں اور فضلوں کو دیکھ کر ہم میں تکبر اور خودی نہ آئے۔بہت لوگ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہم چندہ دیتے ہیں، ہم یہ کام کرتے ہیں مگر یہ کبر کی علامت ہے۔کون ہے جو چندہ دیتا ہے؟ کوئی نہیں دیتا اور کون ہے جو کچھ کام کرتا ہے؟ کوئی نہیں کرتا۔ہم تو ایک نلکی ہیں جس کے ذریعہ خدا تعالیٰ جو چاہتا ہے پھینکتا ہے۔کیا ہمارے جیسے اور لوگ نہیں ہیں؟ ہمارے جیسے کیا ایسے لوگ ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے ہم سے بہت زیادہ مال دیئے ہیں مگر وہ دین کے لئے کچھ نہیں دیتے ، ہم سے زیادہ علم دیتے ہیں مگر وہ خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت نہیں کرتے ، ہم سے بڑھ کر درجے دیئے ہیں مگر خدا کے دین کو اُن سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔مہر ہے جو اُن کے ہاتھوں پر لگی ہوئی ہے۔اُن کے پاس ہم سے زیادہ مال ہے، ہم سے زیادہ رسوخ ہے، ہم سے زیادہ طاقت ہے، اگر وہ عقل سے کام لے کر دیکھنا چاہیں کہ قربانیوں کا کیا نتیجہ ہوتا ہے تو وہ سمجھ سکتے ہیں مگر باوجود اس کے اُن کو توفیق نہیں ملتی کہ قربانیاں کریں۔وجہ یہ کہ اُن پر خدا تعالیٰ کا فضل نہیں ہے اور ہم پر ہے۔خدا کی نے مولانا روم نے اپنے متعلق لکھا ہے میں نے کی طرح ہوں۔بُلانے والا جو کچھ بلاتا ہے وہ بولتا ہوں۔ہماری جماعت کو بھی کیا بلحاظ افراد اور کیا بلحاظ جماعت سمجھ لینا چاہئے کہ ہم بھی خدا کی ئے ہیں۔خدا ہمیں بلاتا ہے اور ہم بولتے ہیں۔ہم