خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 266

خطابات شوری جلد اوّل ۲۶۶ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء اُس نے فوراً قبول کر لیا تھا۔تم میں سے ہر ایک ایسا ہو گا کہ اُس نے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق بات سنی تو اس پر تعجب کیا، یا بات سنی تو تکبر کا اظہار کیا، یا بات سنی تو نفرت اور حقارت سے منہ پھیر لیا۔آپ لوگ جو یہاں جماعت کے نمائندے بن کر آئے ہیں اور جو جماعت کے لئے فیصلوں کے متعلق مشورے دیں گے۔آپ میں سے کئی ایک ایسے ہوں گے کہ جب انھوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دعوی سُنا تو کہا ہوگا۔( نعوذ باللہ ) اس شخص کا سر پھر گیا ہے۔یا دعویٰ سُنا ہوگا تو کہا ہو گا اس نے دُکان کھول لی ہے چند دن کے بعد خود بخود بند ہو جائے گی، یا جب دعویٰ سُنا ہوگا تو یہ خیال کیا ہو گا جب ہم اور ہمارے علماء اس کے مقابلہ کے لئے اُٹھیں گے تو اسے کچل دیں گے۔اُس وقت یہ خیال بھی نہ آیا ہو گا کہ ایک دن ایسا آنے والا ہے جب ہم اس کی غلامی کی رہتی اپنے گلوں میں ڈال کر اس کے پاس پہنچیں گے اور اُسی کام کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں گے جس کے لئے اسے کھڑا کیا گیا ہے۔ذرا غور تو کرو آپ لوگوں کو یہاں کون کھینچ کر لایا، یہ خدا ہی کا کام تھا۔پہلے انبیاء کے واقعات تاریخی طور پر ملتے ہیں مگر ہمارے لئے اُن پر غور کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہماری اپنی ذات ہی کافی ہے۔جو لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نہیں مانتے اُن کو کہنا پڑتا ہے دیکھو حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خدا تعالیٰ نے کیا کیا مگر ہمارے لئے اپنی ذاتیں کافی ہیں۔پُرانے زمانہ کے لحاظ سے تو کچھ کہا ہی نہیں ہماری قربانیاں اور ہماری کامیابیاں جا سکتا مگر موجودہ حالت کے لحاظ سے بھی نہیں کہا جا سکتا کہ جو کامیابیاں ہمیں نصیب ہو رہی ہیں وہ ہماری قربانیوں کا نتیجہ ہیں۔اس وقت دشمن جو کچھ ہمیں سمجھتا ہے ہم اُس کا ہزاروں حصہ بھی نہیں ہیں۔یہ محض رُعب ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمیں دیا گیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے نُصِرُتُ بالرُّعْب سے اسی طرح ہمیں بھی رُعب دیا گیا ہے۔میں حیران ہوتا ہوں جب دیکھتا ہوں کہ ہمارے اخبار نا تجربہ کاری کی وجہ سے دشمن ہماری جو تعریف کرتا ہے اُسے درج کرتے اور اُس کے متعلق لکھتے ہیں کہ دیکھو! دشمن اپنے