خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 265

خطابات شوری جلد اول کے سامان نہ پیدا کر لے۔ ۲۶۵ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء خدا کو چیلنج دینا جب کوئی شخص اپنے متعلق اس غلطی میں مبتلا ہوتا ہے کہ اب وہ ہر طرح مامون و محفوظ ہو گیا ہے اور اُس کے لئے کوئی ابتلا باقی نہیں ہے تو گویا وہ خدا تعالیٰ کو یہ چیلنج دیتا ہے کو یہ پیج دیتا ہے کہ میں اپنے آپ اِس مقام پر پیچی پ اس مقام پر پہنچ گیا ہوں جہاں سے میں اب ہلا یا نہیں جاسکتا ۔ اُس وقت خدا تعالیٰ اُس سے اپنی مدد اور نصرت کھینچ لیتا ہے ۔ اور جب خدا تعالیٰ اپنا ہاتھ کھینچ لیتا ہے تو وہ تو خدا کے ہاتھ میں تلوار تھی جسے خدا تعالیٰ چلا رہا تھا ، ور نہ وہ مردہ چیز تھی اس لئے گر جاتا ہے۔ پس انتقاء کا تقاضا یہ ہے کہ جب تک انسان آخری سانس نہیں لے لیتا ، اُسے خدا تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہئے ۔ کامل زندگی کب ملتی ہے۔ در حقیقت کامل زندگی انسان کو اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ مر جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے انسان جیسی کمزور ہستی کا ہمیشہ دکھ میں پڑے رہنا پسند نہیں کیا اور اس نے انسان کے لئے ہمیشہ دھڑکتے رہنا گوارا نہیں کیا بلکہ اس کے لئے یہ رکھا ہے کہ جب موت آ جائے تب اُسے محفوظ کر دیا جائے ۔ پس ہمیں دُعاؤں کی سخت ضرورت ہے۔ قوم کا گرنا بے شک افراد کا گرنا بھی بڑا خطرناک ہوتا۔ بے شک افراد کا گرنا بھی بڑا خطرناک ہوتا ہے مگر قوموں کا گرنا اور بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے اور جس طرح افراد کے لئے ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کے استغناء کو یاد رکھیں اور اگر اسے بھلا دیں تو گمراہی کے گڑھے میں گر جاتے ہیں اسی طرح قوموں کے لئے بھی ضرور ہے کہ خدا تعالیٰ کے استغناء سے ڈرتی رہیں ۔ کیونکہ قوموں پر بھی ایسا وقت آ جاتا ہے کہ جب وہ اپنی طاقت کے گھمنڈ پر فخر کرتی اور کہتی ہیں کہ ہمیں جو طاقت ، فوقیت اور عروج حاصل ہے یہ ہم نے خود حاصل کیا ہے۔ ہمیں دنیا کی قوموں سے تعلق نہیں ، ہمیں انبیاء کی جماعتوں سے واسطہ ہے ان سب نے محض خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیابی حاصل کی ۔ ہر احمدی کی پہلی حالت تم اپنی حالتوں پر غور کرو۔ کچھ ہی لوگ ہوں گے اور بہت کم ہوں گے سوائے پیدائشی احمدیوں کے اور شاید اس وقت تو ! کوئی ایک بھی نہ ہو جو یہ کہہ سکے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوی کیا،