خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 248
خطابات شوری جلد اول ۲۴۸ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء دوسری چیز جس کا جماعت کو احساس نہیں اور دقتیں پیش آتی ہیں وہ یہ ہے کہ جماعت کے لوگ اس بات کو سمجھتے نہیں کہ دین کے لئے مالی قربانی اسی صورت میں کی جاسکتی ہے کہ یا تو ان کی اپنی آمدنی بڑھے یا وہ اپنے خرچ کم کر دیں ۔ اب ایسے لوگ ہیں جو چندہ تو دے دیتے ہیں لیکن اپنے خرچ کم نہیں کرتے ، اس طرح قرض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اگر ہر شخص یہ سمجھے کہ میں جس قدر چندہ دیتا ہوں اُسی قدر اپنے لباس، اپنے کھانے اور دوسری ضروریات میں خرچ بھی کم کروں گا تو اس طرح ایک تو اُس میں قربانی کرنے کا زیادہ مادہ پیدا ہو اور دوسرے اپنے اخراجات میں اُسے تنگی نہ پیش آئے ۔ مگر وہ اس بات کو محسوس نہیں کرتے اس لئے انہیں مشکلات پیش آتی ہیں اور آئندہ قربانی کرنے میں سست ہو جاتے ہیں۔ میرے نزدیک اگر کام کرنا ہے اور اگر کے مخاطب صرف وہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں کمزوری اور سستی ہے ورنہ ایک مخلص مسلمان سے خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے متعلق یہ پوچھنا کہ وہ کام کرنا چاہتا ہے یا نہیں یہ اُس کی ہتک ہے۔ وہ یہ تو گوارا کر لے گا کہ اُسے سر بازار پیٹا جائے مگر یہ برداشت نہیں کرے گا کہ اُسے کہا جائے کہ وہ دین کی خدمت نہیں کرے گا ۔ پس اگر کام کرنا ہے اور اسلام کو اُس شان میں قائم کرنا ہے جس میں وہ پہلے تھا بلکہ اس سے بڑھ کر تو ضروری ہے کہ ہر ایک احمدی محسوس کرے کہ وہ ذمہ دار ہے اور اس کام کے لئے وہ حاضر ہے جو وکالتا نہیں بلکہ اصالتاً کرنی پڑتی ہے اور جس قدر کوئی قربانی کرے اُسی کے مطابق اپنی زندگی بھی بدلتا جائے اس طرح اگر کام کیا جائے تو جماعت کے رجسٹرڈ آدمی ہی نہ صرف بجٹ کو پورا کر سکتے ہیں بلکہ اور بھی بہت سی خدمات کر سکتے ہیں ۔ میں اس موقع پر یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اگر مختلف مذاہب کے اخبارات کو پڑھا جائے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ آج سے دس سال کے اندر اندر ہندوستان میں اس بات کا فیصلہ ہو جانے والا ہے کہ کون سی قوم زندہ رہے اور کس کا نام و نشان مٹ جائے ۔ حالات اِس سُرعت اور تیزی کے ساتھ بدل رہے ہیں کہ جو قوم یہ سمجھے کہ آج سے ۲۰، ۲۵ سال بعد کام کرنے کے لئے تیار ہوگی وہ زندہ نہیں رہ سکے گی اور جو قوم یہ خیال رکھتی ہے وہ اپنی قبر آپ کھو دتی ہے۔ اگر دس سال کے اندر اندر ہماری جماعت نے فتح نہ پائی اور وہ تمام