خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 247

خطابات شوری جلد اوّل ۲۴۷ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء چو ہے بھاگے اور اپنے پلوں میں جا گھسے۔اگر ہمارے ریزولیوشنز اور تجویز میں بھی اُن چوہوں کی طرح ہوں تو کچھ نہیں ہو سکتا۔جب قربانی کا وقت آئے اور اس کے لئے مطالبہ کیا جائے جسے پورا نہ کیا جائے تو کچھ نہیں ہو سکتا۔سُنا ہے ریاستوں میں تو سال سال دو دو سال تنخواہ نہ ملے تو بھی کام چل جاتا ہے۔مگر وہاں مجسٹریٹ رشوتیں لے لے کر گزارہ کر لیتے ہیں اور سُنا ہے ایسا بھی ہوتا ہے کہ سپاہی رات کو پہرہ دیتے ہیں اور دن کو بھیک مانگتے ہیں۔ہمارے حافظ روشن علی صاحب سناتے ہیں کہ ایک جگہ ایک شخص کو جو ریاست کا ملازم تھا بھیک مانگتے دیکھا تو پوچھا تم ملازم ہو کر بھیک کیوں مانگتے ہو؟ اُس نے کہا تنخواہ نہیں ملتی تو گزارہ کس طرح کریں۔اسے کہا گیا پھر ملازمت چھوڑ کر کوئی اور کام کیوں نہیں کر لیتے ؟ کہنے لگا استعفا بھی تو منظور نہیں ہوتا۔ہماری جماعت میں سستی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جماعت کا بیشتر حصہ یہ خیال کرتا ہے کہ خلیفہ کا خدا تعالیٰ سے تعلق ہے اور اگر کام نہ ہوا تو وہی پکڑا جائے گا ہم ذمہ دار نہیں ہیں حالانکہ سلسلہ کا ہر فرد ذمہ دار ہے۔جب خدا نخواستہ کام بگڑا تو ہر ایک پکڑا جائے گا اسی طرح دنیا میں جو بدنامی ہوگی وہ بھی کسی خاص شخص کی نہیں ہوگی بلکہ ساری جماعت کی ہوگی اور ساری جماعت کو کہا جائے گا کہ تمہارا ساری دنیا کو فتح کرنے کا دعویٰ تو الگ رہا تم تو اپنے گھر کو بھی نہ سنبھال سکے۔اگر جماعت کا ہر ایک فرد سمجھ لے کہ سلسلہ کا کام کرنے کی میری ذمہ داری ہے اور میں نے بہر حال کام کرنا ہے تو دقت بہت جلدی دور ہو جاتی ہے۔اب جب کہا جاتا ہے کہ فلاں جماعت سست ہوگئی ہے تو کہتے ہیں فلاں سیکرٹری سست ہے اس لئے کام میں سستی واقع ہو گئی ہے مگر جو لوگ سکرٹری کوئست کہتے ہیں وہ خود کام کیوں نہیں کرتے اور وہ خود کیوں اپنے آپ کو کام کا ذمہ دار نہیں سمجھتے۔میں ذرا اُس شخص کی شکل دیکھنا چاہتا ہوں جس کا بیٹا بیمار ہو اور وہ اس لئے بیٹھا رہے کہ اس کا علاج کرنے کے لئے فلاں آدمی مقرر ہے مجھے کچھ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔اگر کوئی شخص اس بات کے لئے تیار نہیں تو بتاؤ وہ دین جس کے لئے ہزار اکلوتے بیٹے قربان کرتے ہوئے بھی اتنی پرواہ نہیں ہونی چاہئے جتنی جوتی کی میل کی ہو سکتی ہے، اُس کے لئے یہ جواب کہاں تک جائز ہوسکتا ہے کہ فلاں کے ذمہ کام تھا اُس نے سُستی کی ہے ہم کیا کریں۔