خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 243

خطابات شوری جلد اوّل ۲۴۳ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء کر اُٹھالی۔ایک دفعہ میں نے طالب علموں کو کہا کہ داڑھی نہ منڈ وایا کرو۔تو انہوں نے اُسترے سے منڈوانی چھوڑ دی۔لیکن اُسترے سے بھی نیچے کسی طرح قیچی پہنچا کر منڈا دی جاتی اور جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا مُنڈائی نہیں کترائی ہے۔بات یہ ہے داڑھی ہونی چاہئے آگے خواہ وہ چاول کے دانہ کے برابر ہو چاہے لمبی ہو پھر چاہے کوئی فیشن ہو۔جب صحابہ میں ایسے تھے جن کی چھوٹی داڑھی تھی تو کسی کی لمبی داڑھی دیکھ کر کہنا کہ اتنی ہونی چاہئے یہ شریعت سے معلوم نہیں ہوتا۔ہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لمبی داڑھی تھی۔اگر کوئی لمبی داڑھی رکھتا ہے تو وہ اس بارے میں بھی آپ سے محبت کا ثبوت دیتا ہے۔پس چاہے داڑھی ایک جو کے برابر ہو یا دو جو کے، چاہے بالشت کے برابر ہو یہ اپنے اپنے مذاق پر منحصر ہے۔کسی کو اس میں دخل دینے کا اختیار نہیں ہے۔اگر کوئی دخل دیتا ہے تو وہ شریعت میں دخل انداز ہوتا ہے۔بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے داڑھی بڑھاؤ۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ خوب تیل لگا لگا کر بڑھاتے چلے جاؤ۔یہ آپ نے یہود کے مقابلہ میں فرمایا جو بالکل داڑھی منڈاتے تھے پس اس کا یہ مطلب نہیں کہ خوب مالش کر کر کے داڑھی کو اتنا بڑھاؤ کہ جھاڑو دینے لگ جائے۔“ اس موقع پر چند ممبران نے اپنی آراء پیش کیں۔اس پر حضور نے فرمایا : - ”داڑھی نہ رکھنے والے کی سزا کی مثال رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت کی اس لئے نہیں دی جاسکتی کہ اُس وقت کسی نے داڑھی منڈائی نہیں اور جب یہ صورت ہے تو سزا کی مثال کہاں سے لائیں۔باقی یہ کہ تہجد نہ پڑھنے والوں کے لئے بھی سزا مقرر کی جائے اس کے لئے یا درکھنا چاہئے کہ تہجد کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم نہیں دیا مگر داڑھی رکھنے کے متعلق حکم ہے۔شریعت کی دو قسم کی سزائیں ہیں ایک تو تعزیر ہے اور ایک قومی اخلاق بگاڑنے والوں کے لئے ہے۔ایسی سزائیں حضرت عمرؓ، حضرت عثمان اور حضرت علی نے دی ہیں اور داڑھی نہ رکھنے والوں کے لئے ایسی ہی سزا ہے۔اس لئے اس کے متعلق مشورہ لیا جا رہا ہے اگر شریعت میں ایسے لوگوں کے لئے سزا مقرر ہوتی تو پھر مشورہ