خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 238

خطابات شوری جلد اول ۲۳۸ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء یہ قاعدہ ہو جائے کہ ہر سات سال کے بعد اس پر بلا خلیفہ کی تحریک کے مزید غور ہو جایا کرے کیونکہ حالات کے ماتحت اس میں کمی بھی اور زیادتی بھی دونوں ہی کا سوال پیدا ہو سکتا ہے۔ ۱۹۲۴ء کی مجلس مشاورت میں ایک فیصلہ کیا گیا تھا جو اُس سال کی رپورٹ کے صفحہ ۳۹ پر اس طرح درج ہے۔ دو ہر خلیفہ کے متعلق مجلس شوری فیصلہ کرے کہ اُس کو کس قدر رقم گزارے کے لئے ملے گی اور دوران خلافت میں بھی اگر حالات متقاضی ہوں تو مجلس شوری کے لئے ضروری ہوگا کہ اس رقم کو بڑھا دے ۔ ضروری ہوگا کہ یہ رقم وقت کی ضروریات اور حالات کے مطابق ہو اور خلافت کے وقار کو اس میں مد نظر رکھا جائے ۔ مجلس شوری کو جائز نہ ہوگا کہ بعد میں کبھی اس رقم میں جو مقرر کر چکی ہے کمی کرے۔ اِس مشورہ کے دوران میں خلیفہ وقت اس مجلس میں شریک نہیں ہوں گے۔“ چونکہ اب جو تجویز پیش ہے اس میں کمی کا ذکر ہے جو پہلے فیصلہ کے خلاف ہے اس لئے اس حصہ کو منسوخ کرتا ہوں ۔ باقی چونکہ یہ بھی فیصلہ ہو چکا ہے کہ اس مشورہ میں خلیفہ شریک نہ ہو اس لئے میں اب نواب صاحب کے ہاں جاتا ہوں ۔ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب مجلس کا انتظام کریں گے۔ جب اس امر کے متعلق فیصلہ ہو جائے تو مجھے اطلاع دے دی جائے ۔“ 66 حضور کے اس ارشاد کے مطابق محترم چوہدری صاحب کی صدارت میں مجلس کی کار روائی جاری رہی ۔ فیصلہ ہوا کہ ۵۰۰ روپیہ ماہوار خلیفہ کے ذاتی اخراجات کے لئے اور ۱۵۰۰ روپیه سالا نہ سفر خرچ وغیرہ کے لئے بجٹ میں رکھے جائیں نیز یہ کہ ہر پانچ سال کے بعد اس تجویز پر غور ہوا کرے۔ غور کے وقت مقررہ رقم میں کمی کرنے کی اجازت نہیں ہوگی ۔ فیصلہ ہو جانے کے بعد اطلاع دیئے جانے پر حضور مجلس میں واپس تشریف لے آئے اور فرمایا :- دو یہ معاملہ جو مجلس کے سامنے پیش ہوا اس کے متعلق میری رائے یہی ہے کہ اس امر کے متعلق فیصلہ جماعت کو کرنا چاہئے ۔ صحابہؓ کے زمانہ میں یہی طریق رہا ہے اور کوئی وجہ نہیں