خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 237
خطابات شوری جلد اوّل ۲۳۷ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء طریق گزارہ کے متعلق رہا ہے وہ آئندہ خلفاء کے لئے تکلیف کا موجب ہوگا اور اُن کو اپنے گزارہ کے متعلق کوئی تحریک کرنی بھی مشکل ہو جائے گی اس لئے آپ خود گزارہ نہ لیں لیکن اس سوال کو پیش کر دیں تا کہ آئندہ اس سوال کا اُٹھنا کسی خلیفہ کی ہتک نہ سمجھا جائے۔“ میں طبعا اس سوال کے اُٹھانے سے متنفر ہوں اور جہاں تک مجھ سے ہو سکے گا اور اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے گا اس کے بغیر ہی گزارہ کرنے کی کوشش کروں گا لیکن مذکورہ بالا امر میں مجھے بھی بہت حد تک سچائی نظر آتی ہے اور میں جانتا ہوں کہ اگر آج میری زندگی میں اس امر کا فیصلہ نہ ہوا تو بعد میں آنے والوں کو اس کی وجہ سے تکلیف ہوگی۔میں نے دیکھا ہے کہ عام طور پر لوگوں میں احساس ہے کہ خلیفہ کو جو ہدایا ملتے ہیں وہ غالبا اُس کے گزارہ کے لئے کافی ہوتے ہیں۔میرا اپنا تجربہ یہ ہے کہ اوسطاً ماہوار ایسے اخراجات ۱۵۰ سے ۲۵۰ روپیہ تک ہوتے ہیں اور ان میں لائبریری، امداد غرباء ( بعض ایسے غرباء بھی ہوتے ہیں جن کی مخفی طور پر اپنے پاس سے بھی مدد کرنی پڑتی ہے ) معاملات تمدنی ، دعوتوں اور کئی قسم کے اخراجات شامل ہیں۔ستر ، اسی روپے ماہوار صرف لائبریری اور دفتر کا ہی خرچ ہوتا ہے۔ہدایا کی تعداد عموماً اس رقم سے بھی کم ہوتی ہے۔پس یہ رقم بلکہ اس سے بھی زیادہ تو انہی اخراجات میں خرچ ہو جاتی ہے جو جماعت کی غرض سے خلیفہ کی حیثیت میں خلیفہ کو کرنے پڑتے ہیں۔میرے لئے اللہ تعالیٰ نے بعض ایسی راہیں کھول دی تھیں کہ ان کے ذریعہ پہلے سات آٹھ سال خرچ چلتا رہا مگر اس کے بعد بعض اپنی ہی غلطیوں کی وجہ سے بعض راہیں بند ہو گئیں اور اُس وقت سے ہیں پچیس ہزار روپیہ مجھے قرض لینا پڑا۔ان حالات میں میں سمجھتا ہوں کہ بعد کے خلفاء کو مشکلات پیش آسکتی ہیں۔پس میں بھی اب یہ چاہتا ہوں کہ جماعت مناسب غور کے بعد ایک رقم بجٹ میں خلیفہ کے اخراجات کے لئے بھی مقرر کرے۔میں انشاء اللہ اس رقم کو نہیں لوں گا۔ہاں مجھے یہ فائدہ ہو جائے گا کہ بطور قرض مجھے صدرا مجمن احمدیہ سے ضرورت کے موقع پر جو رقم لینی پڑتی ہے وہ میں اس مد میں سے لے کر جب توفیق ہوا دا کر دیا کروں گا۔اس رقم کے متعلق جو خلیفہ کے لئے مقرر کی جائے میں پسند کرتا ہوں کہ اس کے متعلق