خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 233

خطابات شوری جلد اوّل ۲۳۳ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء سے بہت فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔جماعت کے اکثر لوگ چونکہ تجارت سے ناواقف ہیں اس لئے وہ نہیں سمجھتے کہ تجارت کس طرح کرنی چاہئے۔وہ کہتے ہیں جو دیانت دار ہے ضرور ہے کہ نفع بھی حاصل کرے مگر ہم جو کچھ کہہ سکتے ہیں وہ یہی ہے کہ فلاں دیانتدار ہے۔آگے ممکن ہے ہمارے اندازہ میں بھی ۶۰ فیصدی درست ہو اور ۴۰ فیصدی غلط۔میرے نزدیک محکمہ تجارت کو ان امور کی طرف متوجہ ہونا چاہئے تا کہ عزت بھی محفوظ رہے اور جماعت میں تجارت کی طرف توجہ اور ہیجان زیادہ پیدا ہو۔“ 66 سوالات و جوابات کے متعلق تقریر حضور کی اس تقریر کے بعد ممبران کو سوال کرنے کا موقع دیا گیا۔جن کے متعلقہ ناظر صاحبان نے جواب دیئے۔اس کے بعد حضور نے فرمایا:- ایک دوست نے اس وقت کچھ سوالات لکھ کر دیئے ہیں لیکن سوالات کے متعلق قاعدہ یہ ہے کہ قبل از وقت دفتر میں پہنچ جانے چاہئیں کیونکہ ناظروں کو اپنے دفتر کے ریکارڈ کا ہر حرف یاد نہیں ہوتا۔تمام گورنمنٹوں اور مجالس میں یہی قاعدہ ہے کہ جو سوال پیش کرنا ہو اُسے دفتر میں بھجوا دیتے ہیں تا کہ متعلقہ صیغہ رجسٹروں کو دیکھ کر جواب تیار کرے۔اس دفعہ ایک سے زیادہ بار اعلان کیا گیا تھا کہ جس نے کوئی سوال پوچھنا ہو وہ اطلاع دیں اس پر دو ہی اصحاب کی طرف سے اطلاع آئی۔اب اِس وقت نئے سوال نہیں پیش ہو سکتے کیونکہ ممکن ہے ان کے جواب کے لئے ریکارڈ دیکھنے کی ضرورت ہو۔اگر کوئی صاحب سوال پوچھنا چاہیں تو انگلی مجلس میں قبل از وقت اطلاع دینے پر جواب دیئے جا سکتے ہیں۔میں اس وقت آخری سوال کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں جو شیخ یعقوب علی صاحب کے متعلق ہے۔اس کا جو جواب دیا گیا ہے وہ گورنمنوں کے جواب کی طرح ہے جس سے شیخ صاحب پر بھی اعتراض پڑتا ہے۔کسی شخص کو اس کام کے لئے لے جانا کہ وہ ریکارڈ تیار کرے اور اس کے لئے یہ خیال کر لینا کہ اس کے کھانے کی وجہ سے جو اُسے دورانِ سفر میں کھلایا گیا یا اس کرایہ کے بدلے جو ہم نے اپنے کام کے لئے اُسے دیا وہ چھ ماہ تک بیٹھا کام کرتا رہے درست نہیں ہے۔جب تک ولایت سے واپس آنے کے بعد ان کا کچھ