خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 232
خطابات شوری جلد اوّل ۲۳۲ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء کہ کام نہ کر سکے مگر باوجود اس کے سارا الزام مجھ پر عائد کیا گیا اور اس وجہ سے بعض لوگ مرتد ہو گئے ہیں۔جن لوگوں کی تربیت کا یہ حال ہو اُن سے روپیہ لے کر کسی تجارتی کام پر لگانا کس قدر خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے۔یہ کہنا کہ جن لوگوں کو روپیہ دیا جائے گا وہ ہمارے مقرر کردہ رجسٹر پر حساب رکھیں گے، کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔ٹیکس کے لئے رجسٹر مقرر ہیں مگر خیانت کرنے والے خیانت کر ہی لیتے ہیں۔پھر دیانتداری ہر جگہ کامیاب نہیں ہوا کرتی ، نقصان بھی اُٹھانا پڑتا ہے۔پس ہمارا دوسروں سے روپیہ لے کر تجارت کے لئے دینے کا یہ مطلب ہوگا کہ اگر نقصان ہوا تو اعتراض کرنے والوں میں اضافہ ہو جائے گا اِس وجہ سے ہم اس کام کو ہاتھ میں نہیں لے سکتے۔اس کی بجائے اگر وہ یہ کرتے کہ بجائے روپیہ لے کر تجارت کے لئے دوسروں کو دیں اور بعض خرابیوں کا ہتھیار بن جائیں، وہ یہ کریں جو مہذب گورنمنٹیں کر رہی ہیں کہ تجارت کے متعلق اطلاعات بہم پہنچائیں۔مثلاً یہ کہ کون کونسی تجارت کو فروغ ہو رہا ہے اور کس کو تنزّل۔یہ باتیں مختلف ذرائع سے معلوم ہو سکتی ہیں۔اگر ہمارا محکمہ تجارت اس طرح کرے یعنی تجارتی معلومات بہم پہنچائے اور پھر لوگوں سے کہے اطلاعات ہم بہم پہنچاتے ہیں تم تحقیقات کر کے روپیہ لگاؤ جس کے ذمہ دار تم خود ہو گے تو اس سے بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔مثلاً بنگال میں بٹن اور سیاہی ، دیا سلائی اور صابن کی تجارت بہت ترقی کر رہی ہے اور باہر کی ان چیزوں کی تجارت ٹوٹ رہی ہے۔یہاں سیاہی ایسی بنتی ہے کہ باہر سے کم آتی ہے۔اسی طرح بٹن اتنے سستے بنتے ہیں کہ بیرونجات کی یہ تجارت ٹوٹ رہی ہے۔صابن کی ۶۰ فیصدی تجارت بیرونی چھین لی گئی ہے۔دیا سلائی کی بیرونی تجارت بھی ٹوٹ رہی ہے۔اب ان کے متعلق معلومات بہم پہنچائی جائیں۔پھر یہ بتانا چاہئے کہ کوئی کام ناواقفیت کی حالت میں نہیں کرنا چاہئے فلاں فلاں کارخانے سے یہ کام سیکھے جا سکتے ہیں۔ان سے کام سیکھ کر کیا جائے یا خود لوگوں کو بھیج کر کام سکھلائیں۔یہ ایسا کام ہے کہ اس طرح تھوڑے عرصہ میں جماعت میں تجارتی روح پیدا کر سکتے ہیں۔اسی طرح تجارتی تعلیم اور تجارتی اصول سے جماعت کو واقف کرنے کی کوشش کی جائے۔اسی طرح جو تجارتیں فروغ حاصل کر رہی ہیں اُن کے کارخانوں میں کام کرنے