خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 231
خطابات شوری جلد اول ۲۳۱ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء اسی طرح یہ بتایا جاتا کہ رشتہ کی مشکلات کس علاقہ میں کس درجہ تک ہیں اور کس قوم میں زیادہ ہیں ۔ پھر بتاتے کہ اگر قومیت کی وجہ سے ہیں تو یہ سوال پیش کیا جاتا کہ لڑکوں کی کمی کی وجہ سے مشکلات نہیں بلکہ اس جاہلانہ رسم کی وجہ سے ہیں جسے لوگ چھوڑنا نہیں چاہتے اور اگر تعلیم یافتہ طبقہ میں رشتوں کی مشکلات کا پتہ لگتا تو یہ سمجھا جاتا کہ لڑکے غیر احمدیوں کے ہاں شادیاں کر رہے ہیں ۔ یہ وجہ بھی مشکلات کی ہے۔ میرے نزدیک مفتی صاحب جیسی قابلیت کے انسان کے لئے ضروری تھا کہ اپنی رپورٹ کو ایسا دلکش اور مفید بناتے کہ اس کے سننے سے جماعت کا وقت مفید طور پر خرچ ہوتا ۔ میں امید کرتا ہوں کہ وہ آئندہ اپنی رپورٹ کو مفید بنانے کی کوشش کریں گے اور خدا تعالیٰ نے ان میں جو جو ہر رکھا ہے اُس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ نظارت تجارت کی رپورٹ اس کے بعد میں ناظر تجارت کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں ۔ انہوں نے باوجود پہلے سال رپورٹ پیش کرنے کے اس رنگ میں پیش کی ہے جو دلچسپی رکھتی ہے۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ روپیہ کس کام میں لگا ہوا ہے اور یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ روپیہ کی کس قدر دقت ہے ۔ مثلاً ولایت کی تجارت پر روپیہ کم ہونے کی وجہ سے فائدہ نہیں ہوا کیونکہ لنڈن میں خرچ زیادہ ہوتا ہے اگر روپیہ زیادہ ہوتا تو فائدہ اُٹھایا جا سکتا تھا۔ غرض انہوں نے بہت دلچسپ بیان کیا ہے مگر ان سے ایک ہے غلطی ہوئی ہے انہوں نے اپنی رپورٹ میں ایسی سکیم پیش کر دی ہے جو منظور شدہ نہیں بلکہ صدر انجمن کی رائے کے خلاف ہے اور میری رائے کے بھی خلاف ہے۔ جب انہیں یہ معلوم تھا تو رپورٹ میں اسے نہیں پیش کرنا چاہئے تھا۔ وہ سکیم یہ ہے کہ جماعت کا روپیہ لے کر اوروں کو تجارت کے لئے دیا جائے ۔ سٹور کے متعلق میں نے صرف یہ لکھا تھا کہ سٹور میں کام کرنے والے میرے نزدیک دیانتدار ہیں مگر صرف یہ لکھنے پر ابھی تک میرے نام سٹور میں روپیہ داخل کرنے والوں کی چٹھیاں آ رہی ہیں ۔ کہ تم ہمارے روپے کے ذمہ وار ہو۔ میں اب بھی زید اور بکر کو دیانتدار ہی سمجھتا ہوں مگر اس وجہ سے دنیا کے کسی قانون کے رو سے روپیہ کی ذمہ داری مجھ پر عائد نہیں ہو سکتی ۔ ہو سکتا ہے کہ زید دیانت دار ہو مگر اسے کام کا تجربہ نہ ہو اور اس وجہ سے فائدہ نہ ہو اور اگر تجربہ بھی ہو تو ایسی مشکلات پیش آ جائیں