خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 227
خطابات شوری جلد اول ۲۲۷ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء اس لئے میں خاص طور پر آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں جو جماعتوں کے قائم مقام ہو کر آئے ہیں کہ اس نیت اور ارادہ سے مجلس میں کام کرو کہ اپنے اپنے مقام پر جاکر نہ سوؤ اور نہ دوسروں کو سونے دو ۔ ہمارے لئے یہ وقت سونے کا نہیں بلکہ جاگنے اور بیدار رہنے کا ہے۔ جماعت کے مخلصین تیار رہیں ہمارے لئے کوئی چیز دین سے زیادہ مقدم نہیں ہونی چاہئے ۔ اگر اب بھی ان لوگوں نے جوئست ہیں اپنی سستی ترک نہ کی اور غفلت سے بیدار نہ ہوئے تو میں جماعت کے مخلصین سے کہتا ہوں کہ تیار رہو، تین ماہ تک انتظار کرنے کے بعد ان سے خاص قربانی کا مطالبہ کیا جائے گا اور وہ یہ کہ ان کے کھانے پینے کی حد بندی کر دی جائے گی ، ان کے لباس کی حد بندی کر دی جائے گی ، ان کے دوسرے اخراجات کی حد بندی کر دی جائے گی اور باقی سب کچھ دین کے لئے طلب کر لیا جائے گا۔ میں تین ماہ تک سلسلہ کی مالی حالت کو دیکھوں گا ۔ اگر اس عرصہ میں ترقی نہ ہوئی تو پھر جماعت کے مخلصوں کو بلاؤں گا کہ آؤ اور صرف اپنی زندگی کو قائم رکھنے اور اپنے ستر کو ڈھانکنے کے لئے کچھ رکھ کر باقی سب کچھ خدا تعالیٰ کے دین کے لئے پیش کر دو۔ سنو! اگر ایک شخص اس لئے سالن نہیں کھا تا کہ اسے میسر نہیں تو کیا ہم اتنے بے غیرت ہو گئے ہیں کہ دین کو اس وقت مال کی ضرورت ہو اور ہم سالن کھانا نہ چھوڑیں۔ تین ماہ تک انتظار کیا جائے گا پس اگر سب بھائی ایسے خطرہ اور ضرورت کے وقت نہیں جاگتے تو نہ جاگیں ۔ میں تین ماہ تک ان کا انتظار کرنے کے بعد مخلصوں کو بلاؤں گا جن کے لئے ایک معیار مقرر کر دیا جائے گا کہ اس طرح زندگی بسر کریں اور باقی سب کچھ دین کے لئے خرچ کریں۔ ہم اس کے لئے دوسروں کو مجبور نہ کریں گے مگر میں جانتا ہوں بہت ہوں گے جو آپ ہی آپ یہ طریق اختیار کر لیں گے۔ میں نے جب یہ نیت کی اُس وقت اس کا ایسا اثر تھا کہ جب کھانے کے وقت میرے سامنے سالن لایا گیا تو میں نے کہا دال لاؤ، میں سالن نہیں کھاؤں گا ۔ دال لائی گئی اور میں نے اُس سے کھانا کھایا۔ اُس وقت میرا ایک چھوٹا بچہ بھی جس کی عمر پانچ چھ سال ہو گی ، پاس تھا اُس نے بھی سالن کھانے سے انکار کر دیا اور دال کھائی ۔ اگر ایک چھوٹا بچہ اس طرح کر سکتا ہے تو بڑے کیوں نہ کریں گے ۔ وہ جب دیکھیں گے کہ دین کی خاطر یہ