خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 226
خطابات شوری جلد اوّل چیزیں تباہ و برباد ہو جائیں۔۲۲۶ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء خدا تعالیٰ کے اس ارشاد کے ہوتے ہوئے اگر ہم وہ قربانی بھی نہ کریں جو عام لوگ کر لیتے ہیں تو سمجھ لو ہمارا کہاں ٹھکانا ہوگا۔دیکھا گیا ہے کہ بعض حالتوں میں غیر احمدی بھی بڑی بڑی قربانیاں کر لیتے ہیں حالانکہ وہ بہت پراگندہ طبع اور پراگندہ حال ہیں اور ہندو تو بہت زیادہ قربانیاں کرتے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ ہماری جماعت نہ کرے۔ضروری ہے کہ ہم اس طرف خاص طور پر توجہ کریں اور دوسروں کو توجہ دلائیں۔اس بے توجہی کی وجہ سوائے روحانیت کی کمزوری کے لاہور کی احمد یہ جماعت اور کوئی نہیں اور مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس میں بڑی بڑی جماعتیں بھی شامل ہیں۔ایک جماعت جو مجھے بہت پیاری ہے اس وجہ سے میں اُس کا نام لئے دیتا ہوں وہ لاہور کی جماعت ہے اس کا امیر بھی ایک ایسا شخص ہے جس سے مجھے تین وجہ سے محبت ہے۔ایک تو ان کے والد کی وجہ سے جو نہایت مخلص احمدی تھے، میں نے دیکھا ہے انہوں نے دین کی محبت میں اپنی نفسانیت اور ”میں“ کو بالکل ذبح کر ڈالا تھا اور ان کا اپنا قطعاً کچھ نہ رہا تھا سوائے اس کے کہ خدا راضی ہو جائے۔ایسے مخلص انسان کی اولاد سے مجھے خاص محبت ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ ان میں ذاتی طور پر بھی اخلاص ہے اور آثار وقرائن سے ظاہر ہے کہ وہ اپنے آپ کو دین کی خاطر ہر وقت قربانی کے لئے تیار رکھتے ہیں۔تیسری وجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے انہیں علم ، عقل اور ہوشیاری دی ہے اور وہ اور زیادہ ترقی کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں مگر افسوس ہے کہ انہوں نے نہ اپنی ذمہ داری کو ادا کیا اور نہ اپنی جماعت سے ادا کرایا اور لاہور کی جماعت دن بدن گرتی چلی جا رہی ہے۔اسی طرح اور بھی کئی جماعتیں ہیں۔نئی جماعتوں کا اخلاص ان کے مقابلہ میں میں دیکھتا ہوں بعض نئی جماعتیں ہیں جو بڑی سرعت سے آگے قدم بڑھا رہی ہیں۔جس سے پتہ لگتا ہے کہ سستی اور کمزوری اس لئے نہیں کہ زمانہ کے حالات ایسے ہیں کیونکہ اگر یہ وجہ ہوتی تو ان جماعتوں پر زیادہ اثر ہوتا جوئی ہیں مگر وہ بڑے اخلاص سے کام کر رہی ہیں اور اتنی قربانیاں کر رہی ہیں جو مطالبہ سے بھی بڑھ کر ہوتی ہیں مگر بعض پر انی جماعتوں میں سستی بڑھ رہی۔