خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 222

خطابات شوری جلد اوّل ۲۲۲ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء کہ آمد بڑھائی جائے یا کام بند کر دیئے جائیں۔کئی کئی مہینوں کی کارکنوں کو تنخواہیں نہیں ملتیں۔ٹکٹوں تک کیلئے روپے نہیں ہوتے۔مبلغ واپسی کے لئے اس لئے بیٹھے رہتے ہیں کہ روپیہ نہیں ہوتا۔زکوۃ کی وصولی پھر زکوۃ کی وصولی کا اہم سوال ہے۔جن پر زکوۃ فرض ہے اگر وہ ادا نہ کریں تو یہی نہیں کہ اُن کا ایمان کامل نہیں ہوتا بلکہ نہ دینے والے مسلمان ہی نہیں رہتے۔نظارت خارجہ کی تجاویز پھر نظارت خارجہ کی تجاویز ہیں۔ایک یہ ہے کہ ٹیریٹوریل کمپنی احمدیوں کی قائم کی گئی تھی تا کہ لوگوں میں جرات اور کام سے واقفیت پیدا ہو مگر اس کے متعلق بھی اخراجات کا سوال ہے۔اسی طرح الیکشن کا معاملہ ہے کہ کسی امید وار ممبری کو رائے دینے کے لئے کیا کرنا چاہئے؟ ہر جگہ کے لوگ اپنے علاقہ کے جس شخص کو چاہیں ووٹ دیں یا کس طرح؟ نظارت ضیافت کی طرف سے ایک تجویز ہے جو علی گڑھ کی نظارت ضیافت کی تجاویز جماعت کی تحریک پر پیش کی گئی ہے کہ جلسہ سالانہ کے موقع پر خاص کھانے کی ایک دکان ہو جو صاحب کھانا چاہیں خود خرید کر کھائیں جماعت کی طرف سے کسی کے لئے خاص کھانے کا انتظام نہ ہو۔نظارت تعلیم وتربیت کی تجاویز نظارت تعلیم و تربیت کی طرف سے بھی اہم سوال پیش ہیں۔(۱)۔ایسے احمدیوں کی اولاد کے متعلق جو فوت ہو جائیں اور جن کے رشتہ دار غیر احمدی ہوں کیا انتظام ہونا چاہئے کہ ان کی اولا د ضائع نہ ہو۔(۲)۔احمدیوں میں سے جو لوگ ظاہری شعار شریعت کی پابندی نہیں کرتے اُن کے متعلق کیا کرنا چاہئے۔(۳)۔بورڈنگ ہائی سکول و مدرسہ احمدیہ اور احمد یہ ہوٹل میں جن لڑکوں کی طرف بقایا ہو اور ادا نہ کریں ، اُن سے کیا سلوک کرنا چاہئے۔اس میں بڑی دقتیں ہیں۔اگر بقایا دار لڑکوں کو نکال دیا جائے تو اُن کے والدین ناراض ہوتے ہیں کہ ہم نے لڑکا پڑھنے کے