خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 215

خطابات شوری جلد اوّل ۲۱۵ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء سکتا تو بہت ایسے ہیں جو یہ قربانیاں کرتے ہیں مگر خدا تعالی کی درگاہ سے دُور رہتے ہیں۔پس یقینا یہ قربانیاں کافی نہیں ہیں، یہ ضمنی قربانیاں ہیں۔حقیقی قربانی کیا ہے؟ حقیقی قربانی اور چیز کی ہے اور وہ جان سے، وطن سے ، مال سے، خیالات سے، ارادوں سے، عزت سے، وقت سے علم سے بھی زیادہ عزیز ہے وہ کیا ہے؟ وہ انسان کی انانیت ہے۔وہ اس کا میں ہونے کا خیال ہے کہ میں بھی کوئی ہستی ہوں۔وہ اپنے وجود کا احساس ہے جس کے لئے وہ اپنی جان، اپنے مال، اپنی عزت، اپنے وطن ، اپنے علم ، اپنے وقت غرض ہر چیز کو قربان کر دیتا ہے جس وقت وہ یہ خیال کرتا ہے کہ میرے وجود کا احساس اور میری علیحدہ ہستی خطرہ میں ہے وہ اُس وقت کسی چیز کی پروا نہیں کرتا۔قوم کی خاطر، ملک کی خاطر ، عزت کی خاطر ، آبرو کی خاطر، وطن کی خاطر، قربانیاں کرنے والے بظاہر قوم و ملک ، عزت و آبرو، وطن کی خاطر قربانیاں کرتے نظر آتے ہیں مگر دراصل جس چیز کے لئے قربانی کرتے ہیں وہ ان کا انانیت ، وہ ان کا میں ہوتا ہے۔وہ قربانیاں چونکہ اُن کی رائے اور اُن کی مرضی کے مطابق ہوتی ہیں اس لئے کرتے ہیں۔وہ اس لئے قربانی کرتے ہیں کہ اُن کی مرضی قائم رہے مگر خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ جس چیز کی قربانی میرے حاصل کرنے کے لئے کرنی چاہئے وہ مرضی کی قربانی ہے۔میں کی قربانی خدا کو پانے کے لئے مال کی ، جان کی ، ارادوں کی علم کی ، وقت کی قربانی کافی نہیں۔خدا تعالیٰ اس احساس کی کہ میں ہوں قربانی چاہتا ہے۔جب تک کوئی انسان اس میں کو مٹا نہیں دیتا اس وقت تک خدا اسے قبول نہیں کرتا کیونکہ وہ مشرک ہوتا ہے۔ایسا انسان با وجود لَا إِلهَ إِلَّا اللہ کا نعرہ لگانے کے اس میں قحبہ نہیں اپنے آپ کو ایک الگ وجود تصور کرتا ہے۔جب وہ کہتا ہے میں لَا إِلهَ إِلَّا اللہ کا قائل ہوں تو وہ خود اپنے اس دعوے کو رڈ کرتا ہے کیونکہ اگر میں ہے تو پھر وہ لَا إِلَهَ إِلَّا الله نہیں کہہ سکتا۔اگر اللہ تعالیٰ کسی چیز کی قربانی کا مطالبہ کرتا ہے تو میں کی قربانی کا مطالبہ کرتا ہے۔وہ کہتا ہے تم اپنے نفس کو مٹا دو۔تمہاری مرضی نہ ہو بلکہ میری مرضی ہو۔صرف میں رہوں اور میرا کوئی شریک نہ ہوتی کہ تم بھی نہ ہو۔لوگ مال و جان قربان کرتے ہیں مگر اس میں ان کی مرضی اور خواہش ساتھ ہوگی اور جب تک کوئی میں قربان نہیں کرتا اُس کی قربانی