خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 207

خطابات شوری جلد اوّل ۲۰۷ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء طرح کہہ سکتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کا یہ منشاء تھا کہ اگر کسی کی ایک پیسہ کی جائداد ہو تو اُسی کی وصیت کافی ہو سکتی ہے۔ذرا اس بات پر غور کرو کہ کتنی اہم ذمہ واری اس مقبرہ بہشتی میں دفن کرنے والے کے متعلق عائد ہوتی ہے۔جس کے متعلق ہمارا ایمان ہے کہ اس میں داخل ہونے والا جنتی ہے۔میری ضمیر تو اس بات کی گواہی نہیں دیتی کہ ایک شخص جس کی پانچ سو روپیہ ماہوار آمدنی ہو وہ کہے کہ میرے پاس دس روپے بچتے ہیں جن میں سے دسویں حصہ یعنی ایک روپیہ کی میں وصیت کرتا ہوں۔میں تو اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوسکتا۔اگر کوئی یہ بات تسلیم کرتا ہے کہ ایسا کرنا بھی اخلاص کی علامت ہے تو میں اُسے بد دیانت نہ کہوں گا مگر یہ ضرور کہوں گا کہ اُس نے اُس فیصلہ تک پہنچنے کی کوشش نہیں کی جس تک پہنچنا ضروری تھا۔چونکہ رسالہ الوصیت سے جائداد کی کوئی تشریح نہیں نکلتی اس لئے اس حصہ میں قیاس سے کام لینا ہمارا حق ہے اور اس بارے میں ایسا فیصلہ کرنے کا ہمیں اختیار ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منشاء کو پورا کرے۔کہا جاتا ہے کہ ہمیں حسنِ ظنی سے کام لینا چاہئے۔ممکن ہے جس کی ۵۰۰ روپیہ ماہوار آمدنی ہو اُس کے اخراجات زیادہ ہوں اور وہ بہت کم بچا سکتا ہو۔میں کہتا ہوں یہی چندہ عام کے بارے میں کیوں نہیں کہا جاتا اور چندہ عام کو کیوں اخلاص پر نہیں چھوڑا جاتا۔کیوں دو گھنٹہ اس بات پر بحث کی گئی ہے کہ جو شخص پوری شرح سے چندہ عام نہ دے اُسے سزا دینی چاہئے۔کیوں یہ خیال نہ کر لیا جائے کہ وہ زیادہ نہیں دے سکتا۔اگر اس طرح حُسنِ ظنی جائز ہے تو کیوں چندہ عام کے متعلق نہیں کی جاتی۔اصل بات یہ ہے کہ اخلاص کا معیار عمل ہے نہ کہ ترک عمل۔ایک شخص جس کی آمدنی ایک ہزار روپیہ ماہوار ہو وہ کہہ سکتا ہے کہ میرا خرچ اِس سے بھی زیادہ ہے میں کچھ نہیں دے سکتا۔پھر اسے مقبرہ میں کس اصل کے ماتحت دفن نہیں کیا جائے گا۔اس طرح تو ہر احمدی کو دفن کرنا پڑے گا خواہ وہ چندہ عام بھی دیتا ہو یا نہ دیتا ہو۔اُس کے متعلق بھی یہی حسن ظنی کرنی ہوگی کہ اُس کے خرچ آمد سے بڑھے ہوئے ہوں گے۔کہا گیا ہے کہ چوہدری اللہ داد صاحب کو یونہی دفن کر دیا گیا تھا مگر واقعات کے معلوم نہ ہونے سے ٹھوکر لگ جاتی ہے۔چوہدری الہ داد صاحب دسویں حصہ سے زیادہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ میں روپیہ دیا کرتے تھے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ