خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 206

خطابات شوری جلد اوّل قدر مال کسی کو قربان کرنا چاہئے۔۲۰۶ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء اصل بات یہ ہے کہ وصیت کا مفہوم تو الہامی ہے لیکن آگے اس کی تشریح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کی ہے اور اب جس بارے میں آپ کی نص موجود نہیں اُس کے متعلق ہمیں تشریح کی اجازت ہے اور کئی صورتیں ایسی پیدا ہوتی رہتی ہیں جن کے متعلق تشریح کی ضرورت پیش آجاتی ہے۔مثلاً حضرت صاحب کی زندگی میں ہی رسالہ وصیت لکھے جانے کے بعد یہ صورت پیش آگئی تھی کہ جن کی کوئی جائداد نہ ہو وہ کیا کریں؟ وصیت کے دو سال بعد حضرت مسیح موعود فوت ہو گئے۔اُس وقت تک مقبرہ میں چھ سات قبریں تھیں جن میں سے زیادہ اُنہی لوگوں کی تھیں جو مساکین تھے اور مخالفین کے ستائے ہوئے اپنے گھروں سے نکل کر یہاں بیٹھے تھے۔اُن کی جائداد اُن کی قربانی ہی تھی۔پھر اب تک وصیت کے بارے میں نئے نئے جھگڑے پیدا ہوتے رہتے ہیں۔وصیت کرنے والے فوت ہو جاتے ہیں، پیچھے اُن کے رشتہ دار وصیت کا روپیہ نہیں دیتے۔اس کے متعلق سوال پیدا ہوا کہ کیا کیا جائے؟ تو تجارب سے اس قسم کی ضرورتیں پیش آتی رہتی ہیں کہ تشریحات کی جائیں اور اس سے ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ بعض شقیں ایسی ہو سکتی ہیں کہ جو حضرت صاحب کی وفات کے بعد پیدا ہوں اور اُن پر غور کی ضرورت ہو۔اس قسم کی شقوں میں سے ایک شق یہ ہے کہ ایک شخص کی ۵۰۰ روپیہ ماہوار آمدنی ہے۔اُس کی اگر اور کوئی جائداد نہ ہو تو ٹرنک، بسترہ وغیرہ تو ہوگا ، گھر کا اسباب بھی ہو گا اور کفن دفن کے اخراجات کے بعد کچھ نہ کچھ ان کے گھر ضرور بیچ رہے گا۔ایسا کوئی شخص نہیں ہو سکتا جس کے گھر کچھ بھی اسباب نہ ہو اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حضرت صاحب کے سامنے جائدادنہ ہونے کی جو صورت پیش کی گئی تھی اُس کا یہ مفہوم تھا کہ ایسا شخص لنگوٹی باندھ کر پھر تا ہو اور اُس کے ہاتھ پلے کچھ نہ ہو، ایسا تو کوئی نہیں ہوسکتا۔اس کا مطلب یہی تھا کہ جائداد کا مفہوم یہ سمجھا گیا کہ جس پر گزارہ ہو۔اب دیکھو حضرت صاحب کے زمانہ میں آمد کے حصہ پر وصیت ہوئی ہے یا نہیں؟ ۵۰،۴۰، ۶۰ روپیہ ماہوار تنخواہ والے لوگوں نے اپنی آمد کے حصہ کی وصیت کی ہے۔کیا کوئی تسلیم کر سکتا ہے کہ ان کی تجہیز و تکفین کے بعد اُن کے گھر میں کچھ بھی نہ بچتا۔اگر نہیں تو پھر کس